یعنی جب تک میںَ مرنہ جائوں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں۔
ایک رئویاء
پھرفرمایا:۔
آج رات مجھے خواب آیا ہے نہ معلوم اس کا اصل مہفوم کیا ہے میںَنے اس کے لفظوں سے اجہتادی معنے نکالے ہیں ۔جیسا کہ میںَ کسی راستہ پر چلاجا تا ہوں ۔گھرکے لوگ بھی ساتھ ہیں اور مبارک احمد کو میںَ نے گود میں لیا ہو اہے بعض جگہ نشیب وفرازبھی آجا تا ہے جیسے کہ دیوار کے برابرچڑھناپڑتا ہے مگر آسانی سے اُتر چڑھ جا تا ہوں اور مبارک اسی طرح میری گود میں ہے ۔ارادہ ہیکہ ایک مسجدمیں جا نا ہے ۔جا تے جاتے ایک گھر میں داخل ہو ئے ہیں ۔گویا وہ گھر مسجد موعود ہے جس کی طرف ہم جا رہے ہیں اندرجا کردیکھا ہے کہ ایک عورت بعمر۱۸سال سفیدرنگوہاں بیٹھی ہے ۔اس کے کپڑے بھورے رنگ کے ہیں مگر بہت صاف ہیں ۔جب اندرگئیہیںتوگھروالوں نے کہاہے کہ یہ احسن کی ہمشیرہ ہے اور یہیںخواب ختم ہو گئی۔
(الحکم جلد۷نمبر۱۵ صفحہ۶مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
استفساراوراُن کے جواب ۱؎
اہل بیت سے مراد
سوال:۔ ا
نمایریداللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیر(اخراب:۳۴)
کس کی شان میںہے۔
جواب:۔اگرقرآن شریف کودیکھاجاوے توجہاںیہ آیت ہے وہاںآنحضرت ﷺ کی بیویوںہی کا ذکر ہے ۔سارے مفسراس پرمقفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُمہات المومنین کی صفت اس جگہ بیانفر ما تا ہے دوسری جگہ فرما یاہے ۔ا
الطیبت للطیبین(نو۔۲۷)
یہ آیت چاہتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے گھروالے طیبات ہوں ۔وہاں اس میں صرف بیبیاںہی شامل نہیں بلکہ آپ کے گھرکی رہنے والی ساری عورتیںشامل ہیں اور اس لیے اس میںبنت بھی داخل ہو سکتی ہے بلکہ اور جب فاطمہ رضی اللہ عنہاداخل ہوئیںتو حسنینؓ بھی داخل ہو ئے ۔پس اس سے زیا دہ یہ آیت وسیع نہیں ہو سکتی جتنی وسیع ہو سکتی تھی۔ہم نے کردی ۔کیونکہ قرآن شریفازواج کو مخاطب کرتا ہے اور بعض احادیث نے حضرت فاطمہ اور حسنینؓکو مطہرّین میں داخل کیا ہے پس ہم نے دونو کو یکجا جمع کر لیا ہے ۔