شیاطین بُرے خیا لا ت پیدا کیاکرتے ہیں۔جیسے اس سے پہلے شیا طین بُرے خیالات پیدا کیا کر تے ہیں اور یہ سب مامور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اسی کے آنے سے یہ تحریکیں پیداہوتی ہیں ۔ اسی طرح فرمایا ۔
اِنًّااَنذَلٗنٰہُ فِی لَیٗلَۃِ الٗقَدٗرِ ۔ وَمَا اَد’رٰیکَ مَالَیلَتہُ القد ر ۔ (القدر:۲‘۳ )
خدا تعالیٰ نے مقدر کیا ہوا ہوتا ہے کہ مامور کے زمانہ میںملائک نازل ہو ں ۔ کیا یہ کام بغیر امداد الیٰ کہیں ہو سکتاہے ؟کیا یہ سمجھ میں آسکتاہے کہ ایک شخص خود بخود اُٹھے اور کسرِصلیب کر ڈالے نہیں ۔ہاں اگر خدااُٹھاوے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے ۔
یہ کسرِ صلیب اعزازاً اور اکراماًمسیح موعود کی طرف منسوب کی جاتی ہے ورنہ کرتا تو سب کچھ خداہے یہ باتیںعین وقت پر واقع یوئی ہیں قرآن سے بہ تصریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ وہی ہے جس کا نام خداتعالیٰ نے رکھا ہے ستہ ایام۔ چھٹے دن کے آخری حصّہ میںآدم کا پیدا ہونا ضروری تھا براہین میںاسی طرف اشارہ ہے
اردت ان استخلف فخلقت ادم ۔
پھر فر مایا ان یوماعندربک کالف سنتہ مما تعدون (الحج :۴۸ )
آج سے پہلے جو ہزاربرس کذرا ہے وہ با عتباربداخلاقیوںاور بداعمالیوں کے تا ریکی کا زما نہ تھا کیو نکہ وہ فیق وبا قی ایک ہزار ہی رہ جا تا ہے ورنہ اس کے بغیر احادیث کی مطابقت ہو ہی نہیں سکتی اور اس طرح پر پہلی کتا بوں سے بھی مطا بوت ہو جا تی ہیں اور وہ با ت بھی پو ری ہو تی ہے کہ ہزار سال تک شیطان کھُلارہے گا یہ با ت بھی کیسی پو ری ہو تی ہے اور انگریز بھی اسی واسطے شور مچاتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جس میں ہ،ا رے مسیح کو دوبا رہ آنا چاہئیے ۔یہ مسئلہ ایسا مطابق آیا ہے کہ کو ئی مذہب اس سے انکار کرہی نہیں سکتا ۔یہ ایک علمی نشا ن ہے جس سے گریز نہیں ہو سکتا۔
رویاء کا اختتام
ایک بھائی کے خواب بیان کرنے پر فر ما یا:۔
یہ خواب ایک عجیب با ت پر ختم ہو ا ہے ۔شیطان انسا ن کو طرح طرح کے تمشلات سے دھوکہ دینا چا ہتا ہے مگر معلوم ہو اہے کہ تمہارا نتیجہ بہت اچھا ہے کیو نکہ اس رئویا کا اختتام اچھی جگہ پرواقع ہو اہے ۔ایسا اکثر ہو اکر تا ہے چنانچہ ایک ولی اللہ کا تذکرہ لکھا ہیَ کہ جب ان کا انتقال ہو اتواُن کا آخری کلمہ یہ لگا کہ یہ کیا کعاملہ ہے ایک دن خواب میں اُن سے ملاقات ہو گئی ۔دریافت کیا کہ یہ آخری لفظ کیا تھا اور آپ نے کیاں کہا تھا ؟آپ نے جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت ہرایک انسا ن پر حملہ کرتا ہے کہ اس کا نورِ
ایما ن اخیروقت پرچھین لے ۔اس لیے حسب معمول وہ میرے پا س بھی آیااور مجھے مرتدکرنا چاہا اور میںَنے جب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگا کہ تو میرے ہا تھ سے بچ نکلا ۔اس لیے میںَنے کہا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں