رکھنا اور پا نچو ں وقت کی نما ز وںکو ادا کر نا ہیں ۔نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے جب نما ز پڑھوتو اس میں دعا کرو اورغفلت نہ کرو۔اور ہرایک بدی سے خواہ وہ حقوق الہیٰ کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو بچو۔
(البدر جلد ۲نمبر ۱۴ صفحہ ۱۰۶ ۔۱۰۷مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۷؍اپریل ۱۹۰۳ء
(صبح کی سیر)
صحابہؓ کی فضیلت
فر ما یا :۔
لاتلھیھم تجارت و لابیع عن ذکراللہ(نور:۳۸)
یہ ایک ہی آیت صحابہؓ کے حق میں کا فی ہے کہ انہوں نے بڑی بڑی تبدیلیاں کی تھیں اور انگر یز بھی اس کے معترف ہیں کہ ان کی کہیں نظیرملنا مشکل ہے ۔با دیہ نشیں لو گ اور اپنی بہادری اور جاأ ت تعجب آتا ہے ۔
طا عون کا علا ج
طا عون کا علا ج کے متعلق ذکر آنے پر فر ما یا :۔
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ طاعون کو کوئی قطعی علاج ہو ۔اس کے زدرکیوقت اور اس بیماری میں مبتلاشدیدکو اگر کو ئی دوائی فا ئدہ کرے تب تو ما ن لیں ۔جب زہریلے موادنہایت تیزی سے پیداہو رہے ہوں۔اس وقت کسی دوائی کا عمل دکھلائوسہی ۔اس کا نسخہ تو محض اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔
نسیم توحید
اس خدا تعالیٰ کی طرف سے امیدہے کہ وہ دن قریب ہیں کہ ہما را غلبہ ہو جا وے کیونکہ آثارسے معلوم ہو تا ہے کہ رفتہ رفتہ لو گ توحید کی طرف رجوع کرتے جاتے ہیں عیسائیوںنے مسیح کی خدائی پراب اتنا زوردینا چھوڑدیا ہے ۔ہنودمیں آریہ تو حید طرف مائل ہو رہے ہیں پس یہ ایک ہو اچل پڑی ہے جب ان سب لو گوں نے اپنے اصول چھوڑدہئے ہیں تو ان کی تو خود کشی ہو رہی ہے ۔
جیسے چھ مہینے کے بعد کھیتی کی حالت کچھ اورَ ہی ہو جا تی ہے اسی طرح ان لوگوں کے عقائدمیںبینّ فرق نظر آتا جا تا ہے ۔
ایک اکیلے آدمی کا کام ہرگز نہیں کہ کسرِ صلیب کرسکے مگر ہا ں جب خدا تعالیٰ کا ارادہ ساتھ ہو تو پھرملا ئک اس کی امدادمیں کا م کرتے ہیں ۔
نزوِل مامور
جب مامور مامور ہو کرآتا ہے تو بے شمار فرشتے اس کے ساتھ نا زل ہو تے ہیں اور دلوںمیں اسی طرح نیک اور پا ک خیالات کو پیداکرتے ہیں جیسے اس سے پہلے