رسلی (المجادلہ:۲۲) یعنی خدا تعالیٰ نے لکھدیا ہے کہ میںَ اورمیرے ُرسول ضرورغالب رہیں گے اوّل اوّل جب انسا ن خدا تعالیٰ سے تعلق شروع کر تا ہے تو وہ سب کی نظروں میں حقیر اورذلیل ہو تا ہے مگر جوں جوں وہ تعلقات الہیٰ میں ترقی کر تا ہے توںتوں اس کی شہرت زیا دہ ہو تی ہے حتیٰ کہ وہ ایک بڑابزرگ بن جا تا ہے جیسے خدا تعالیٰ بڑا ہے اسی طرح جو کوئی اس کی طرف زیا دہ قدم بڑھا تا ہے وہ بھی بڑا ہو جا تا ہے حتیٰ کہ آخرکا ر خدا تعالیٰ کا خلیفہ ہو جا تا ہے ۔ اس توبہ کو کھیل نہ خیا ل کرو اور یہ نہ کرو کہ اسے یہیں چھوڑجائو بلکہ اسے ایک اما نت اللہ تعالیٰ کی خیال کرو۔تو بہ کرنے والاخدا تعالیٰ کی اس کشتی میں سوارہو تا ہے جو کہ اس طوفا ن کے وقت اس کے حکم سے بنائی گئی ہے اس نے مجھے فر ما تا ہے واضعالفلک اور پھریہ بھی فر ما یا ہے انالذین یبایعونکانمایبایعوناللہ ۔یداللہ فوق ایدیھم۔ جس طرح با دشاہ اپنی رعایامیں اپنے نائب کو بھیجتاہے اور پھر جو اس کا مطیع ہو تا ہے اسے بادشاہ کا مطیع سمجھا جا تا ہے ایساہی اللہ تعالیٰ بھی اپنے نائب دنیا میں بھیجتا ہے آجکل توبہ ایک بیج ہے جس کے ثمرات تمہارے تک ہی نہ ٹھہریں گے بلکہ اولا د تک بھی پہنچیں گے ۔سچے دل سے توبہ کرنے کے گھر رحمت سے بھرجا تے ہیں ۔ دنیوی لوگ اسبا ب پربھروسی کرتے ہیں مگراللہ تعالیٰ اس با ت کے لیے مجبورنہی ہے کہ اسبا ب کا محتا ج ہو۔کبھی چا ہتا ہے تو اپنے پپاروں کے لیے بلااسبا ب بھی کا م کردیتا ہے اور کبھی اسبا ب پیدا کرکے کر تا ہے اور کسی وقت ایسا بھی ہو تا ہے کہ بنے بنائے اسبا ب کو بگاڑدیتا ہے ۔ غرض اپنے اعما ل کو صاف کرواور خدا تعالیٰ کا ہمیشہ ذکرکرواورغفلت نہ کرو ۔جس طرح بھاگنے والاشکارجب ذراسُست ہو جا وے تو شکاری کے وقابومیں آجا تاہے ۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کر نے والاشیطان کا شکا ر ہو جا تا ہے ۔ تو بہ کو ہمیشہ زندہ رکھواور کبھی مردہ نہ ہو نے دو۔ کیو نکہ جس عضو سے کا م لیا جا تا ہے وہی کا م دے سکتا ہے اور جس کو بیکا رچھوڑدیا جا وے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے نا کا رہ ہو جا تا ہے ۔اسی طرح تو بہ کو بھی متحرک رکھوتاکہ وہ بیکا رنہ ہو جا وے ۔اگر تم نے سچی تو بہ نہیں کی تو بہ کی بیج کی طرح ہے جو پتھرپربویا جا تا ہے اور اگر وہ سچی تو بہ ہے تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لا تا ہے ۔آج کل اس تو بہ میں بڑی بڑی مشکلا ت ہیں ۔اب یہاںسے جا کر تم کو بہت کچھ سنناپڑیگا اور لا گ کیا کیا با تیں بنائیں گے کہ تم نے ایک مجذوم ۔کا فر ۔دجا ل وغیرہ کی بیعت کی ۔ ایسا کہنے والوں کے سامنے جو ش ہر گزمت دکھا نا ۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کے واسطے ما مور کئے گئے ہیں ۔اس لیے چاہئیے کہ تم ان کے لیے دعا کرو کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی ہدایت دے اور جیسے کہ تم کو امیدہے کہ وہ تمہا ری با توں کو ہرگز قبول نہ کریں گے تم بھی ان سے منہ پھیر لو۔ہما رے غالب آنے کے ہتھیار استغفار ۔تو بہ ۔دنیی علوم کی واقفیت ۔خدا تعالیٰ کی عظمت کو مدنظر