کا خالق ہے ویسے ہی وہ توبہ کا بھی خالق ہے اور اگر اس نے توبہ کو قبول کرنا نہ ہو تا تو وہ اُسے پیداہی نہ کرتا ۔گناہ سے توبہ کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔سچی توبہ کرنیوالا خداتعالیٰ سے بڑیبڑے انعاما پاتا ہے ۔یہ اولیا ،قطب ،غوث کے مراتب اسی واسطے لوگوں کو ملے ہیں کہ وہ توبہ کرنے والے تھے اور خداتعالیٰ سے ان کا پاک تعلق تھا اس واسطے ہرگز نہیں ہے کہ وہ منطق ،فلسفہ اور دیگر علوم طبعیہ وغیر ہ میں ماہر تھے ۔جو لوگ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں وہ ان بندوں میں داخل ہو جاتے ہیں جن پر خدا تعالیٰ رحم کرتا ہے۔
اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چاہیئے کہ مَیں مالدار ہو جائوں گا ۔مجھے فلاں عہدہ ملِ جاوے گا ۔یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا تعالیٰ بیزار ہے ۔بعض وقت مصلحت الہی یہی ہو تی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مراد حاصل نہیں ہو تی ۔طرح طرح کے آفات ،بلائیں ،بیماریاں اور نامرادیاں لاحق حال ہو تی ہیں مگر اُن سے گھبرانا نہ چاہیئے ۔موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہو جاوے گا تو کیا موت سے بچ جاویگا ؟غریبی میں بھی مرنا ہے ۔بادشاہی میں بھی مرنا ہے اس لیے سچی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہیئے۔
خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہر گزنہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے ۔وہ اُسے خائب وخاسر کرے اور ذلّت کی مو ت دیوے جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہو تا ۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا تعالیٰ سے سچاّ تعلق تھا اور پھر وہ نا مراد رہا۔خدا تعالیٰ بندے سے یہ چا ہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہش اس کے حضور پیش نہ کرے اورخالص ہو کر اس کی طرف جھُک جا وے جو اس طرح جھُکتا ہے اسے کو ئی تکلیف نہیں ہو تی اور ہر ایک شخص مشکل سے خودبخود اس کے واسطے ر اہ نکلِ آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فر ما تا ہے
من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاویر زقہ من حیث لایحتسب(الطلاق :۳،۴)
اس جگہ رزق سے مراد روٹی وغیرہنہیں بلکہ عزت ۔علم۔وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کوضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرّہ بھربھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائعنہیں ہو تا ۔
من یعمل متقال ذرّہ خیرایرہ(الزلزال:۸)
ہما رے ملک ہندوستان میں نظام ا لدین صاحب اور قطب ا لدین صاحب اولیاء اللہ کی جو عزت کی جا تی ہے وہ اسی لیے ہے کہ خدا تعالیٰ سے اُن کا سچاّ تعلقّ تھا اور اگر یہ نہ ہو تا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوںمیں ہل چلاتے ۔معمولی کا م کرتے ۔مگر خدا تعالیٰ کے سچّے تعّلق کی وجہ سے لو گ ا ُن کی مٹی کی بھی عزت کرتے ہیں ۔
خداتعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جا تا ہے ۔دشمن چاہتے ہیں کہ ان کا نسیت ونا بودکریں مگر وہ روزبروزترقی پا تے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جا تے ہیں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے
کتب اللہ لا غلبن اناو