۶؍اپریل ۱۹۰۳ئ
مجلس قبل از عشاء
حقیقتِ دُعا
فرمایا کہ:۔
ہمارے دوستوں کو بعض وقت دُعا کے متعلق ابتلا ء پیش آجاتے ہیں اسلیے مناسب معلوم ہوا کہ اُن کو دُعا کی حقیقت سے اطلاع دی جا وئے اور اسی لیے میَں نے حقیقت الدعا کے نام سے ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے مگر چونکہ طیبعت علیل رہی ہے اس لیے ختم نہیں کر سکا ۔
رسول اللہﷺ کا تمام مدار دُعا پر ہی تھا اور ہر ایک شکل میں آپ دُعا ہی کر تے تھے۔ایک روایت سے ثابت ہے کہ آپ کے گیارہ لڑکے فوت ہوگئے ہیںتو کیا آپ نے اُن کے حق میںدُعا نہ کی ہو گی ؟آگ کل ایک غلط فہمی لوگوں کے دلو ں میں پڑھ گئی ہے اور یہ اس جہالت کے زمانے کی نشانی ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیںکہ فلاں بزرگ فلاں ولی کے پھونک مارنے سے صاحبِ کمال ہو گیا اور فلاںکے ہاتھ سے ُمردے زندہ ہوئے ۔
بیعت اور توبہ
چند احباب نے بیعت کی ۔ ان کو حضرت اقدس نے نصیحت فرمائی ۔بیعت میں انسان زبان کے ساتھ گناہ سے توبہ کا اقرار کرتا ہے مگر اس طرحسے اس کا اقرار جائزنہیں ہو تا جب تک وہ دل سے اقرار نہ کرے ۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ جب سچے سل سے توبہ کی جاتی ہے تو وہ اُسے قبول کرلیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے
اجیب دعوۃالداع اذادعاب
یعنی میں تو توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں ۔خداتعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار کو جائز قرار دیتا ہے کہ جو سچے دل سے توبہ کر نے والا کر تا ہے ۔اگر خداتعالیٰ کی طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہوتا تو پھر توبہ کا منظورہو ناایک مشکل امر تھا ۔سچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ پھر خداتعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اُس نے توبہ کرنیوالوںکے ساتھ کئے ہیں اور اسی وقت سے ایک نور کی تجلّی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے ۔جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گُناہوں سے بچُوں گا اور دین کو دنیا پر مقّدم رکھوں گا تو اس کہ یہ معنی ہیںکہ اگر چہ مجھے اپنے بھائیوں ،قریبی رشتہ داروں اور سب دوستوں سے قطع تعلّق ہی کرنا پڑے مگر مَیں خدا تعالیٰ کو سب سے مقّدم رکھونگا اور اسی کیلئے اپنے تعلقات چھوڑتا ہوں ۔ایسے لوگوں پر خداتعالیٰ کا فضل ہو تا ہے کیونکہ انہی کی توبہ دلی توبہ ہو تی ہے ۔
پھر جو لوگ دل سے دُعا کرتے ہیں ۔خداتعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے جیسے خداتعالیٰ آسمان زمین اور سب اشیاء