تک ہم خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کر نیوالے ہیں یا صرف لا فیں ہی لا فیں ہیں ۔ابھی طاعون موقوف نہیں ہو گئی خدا جا نے کب تک اس کا دورہ ہے اور اس نے کیا کچھ دکھا نا ہے ۔ سات سال سے تو ہم برابردیکھتے ہیں کہ یوماََفیوماََبڑھتی ہی جا تی ہے اورپیچھے قدم نہیں ہٹاتی ۔ہرسال پہلے کی نسبت سناُ جا تا ہے کہ ترقی پر ہے ۔ نا زک زما نہ زما نہ ایسا آیا ہو اہے کہ لوگ اپنے نفس کی اصلا ح کی طرف متوجہ ہو ں ۔ہزارہا انعامات اور خدا تعالیٰ کے فضل کے نشا نا ت ہیں اور عیش وعشرت میں زندگی بسر کرنے سے تو نفس کو شرم نہ آئی کہ خدا تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے ۔مگر شاید اس قہری نشا ن کو دیکھ کر اپنی اصلا ح کی طرف متوجہ ہو ں ۔ افسوس انعامات اور احسانا ت الہیہٰ سے توشرمندہ نہ ہوئے اب اس عذاب ہی سے ڈرکرسنور جا ویں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ مسلما ن کہلا کر،مسلما نوں کی اولادہو کر اسلام اور رسول اللہ ﷺ کو اس طرح گالیاں دیتے ہیں جیسے چوڑھے چمارکسی کو نکالا کرتے ہیں ۔اللہ اور رسول سے ان کو بجزگالیوں کے اورَ کو ئی تعلق ہی نہیں ۔بٹے گندہ دہن اور پر لے درجہ کے عیاش ۔بدمعاش ۔بھنگی۔چرسی ۔قمارباز وغیرہ بن گئے ہیں۔ اب ایسے لوگوں کی زجراورتوبیخ کے واسطے خدا تعالیٰ جوش میں نہ آوے تو کیا کرے؟ خداغیوّر بھی ہے وہ شاید العقاب بھی ہے ۔ایسے لوگوں کی اصلاح بھلابجز عذاب اور قہرالہیٰ کے نا زل ہو نے کے ممکن ہے ؟ ہرگزنہیں ۔چونکہ بعض طبائع عذاب ہی سے اصلاح پذیرہو تی ہیں ۔اس لیے ہرایک شخص کو چاہئیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے اذجاء اجلھم لایستاخرون ساعت ولا یستقدمون۔ (الاعراف:۳۵) جب عذاب الہیٰ نا زل ہو جا تا ہے توپھر وہ اپنا کا م کر کے ہی جا تا ہے اور اس آیت سے یہ بھی استنباط ہو تا ہے کہ قبل ازنزول عذاب توبہ استغفارسے وہ عذاب ٹل بھی جا تا ہے استغفار کی حقیقت گنا ہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہو ا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے استغفارکیا ہے ؟یہی کہ جو گناہ صادرہو چکے ہیں ان کے بدثمرات سے خدا تعالیٰ مفوظ رکھے اور جوابھی صادرنہیں ہوئے اور جوبالقوہ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا وقت ہی نہ آوے اور اندر ہی اندروہ جل بھنُ کرراکھ ہو جاویں۔ یہ وقت بڑے خوف کا ہے اس لیے توبہ و استغفار میں مصروف رہواور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو۔ہر مذہب وملّت کے لوگ اور اہل کتا ب مانتے ہیں کہ صدقات وخیرات سے عذاب ٹل جا تا ہے مگر قبل ازنزول عذاب مگر جب نا زل اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفا ظت کرے۔ (البدر جلد ۲نمبر ۱۴ صفحہ ۱۰۶ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۳؁ئ)