۵ اپریل۱۹۰۳ء
کثرتِ عوارض کی وجہ
ان مختلف امراض اور عوارض کے ذکر پر جو انسا ن کو لاحق ہو تے ہیں فر ما یا کہ :۔
اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ چند ایک بیمار یاں ہی انسان کو لاحق کر دیتا مگر دیکھتے ہیں کہ بہت سے امراض ہیں جن میں وہ مبتلاہو تا ہے اس قدر کثرت میں خدا تعالیٰ کی یہ حکمت معلوم ہو تی ہے تا کہ ہم ہر طرف سے انسان اپنے آپ کو عوارض اور امراض میں گھر اہو ا پا کر اللہ تعالیٰ سے ترساں اور لرزاں رہے اور اسے اپنی بے شباتی کا ہردم یقین رہے مغرور نہ ہو اور غافل ہو کر موت کو نہ بھوُل جاوے اور خدا سے بے پروانہ ہو جاوے ۔
مرابمرگِ عدجائے شادمانی نسیت
بعض مخالفین کے طاعون سے ہلا ک ہو نے کی خبر آئی ۔اس پر فر ما یا کہ :۔
دشمن کی موت سے خوش نہیں ہو نا چاہئیے ۔بلکہ عبرت حاصل کرنی چاہئیے ۔ہر ایک شخص کا خدا تعالیٰ سے الگ الگ حسا ب ہے سوہر ایک کو اپنے اعمال کی اصلا ح اور جانچ پڑتال کر نی چاہئیے ۔دوسروں کی مو ت تمہارے واسطے عبرت اور ٹھوکر سے بچنے کا با عث ہو نی چاہئیے نہ کہ تم ہنسی ٹھٹھے میں بسر کر کے اورَ بھی خدا تعالیٰ سے غافل ہوجائو میںَ نے ایک جگہ تورات میںدیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ اس میں فر ما تا ہے کہ ایک وقت ہو تا ہے کہ جب میںَ ایک قوم کو اپنی قوم بنا ئی چاہتا ہوں تو اس کے د شمنوں کو ہلا ک کرکے اُسے خوش کر تا ہوں ۔مگر اُسی قوم کی بے اعتنائیوں سے ایک وقت پھر ایسا آجاتا ہے کہ اسکو تبا ہ کر کے دشمنوں کو خوش کرتا ہوں۔
فر ما یا :۔
کا میاب ہونیوالے
اعمال دوقسم کے ہو تے ہیں بعض لو گ ایسے ہو تے ہیں کہ وہ دوسروں کی نظر میں نیک اور نمازی وغیرہ ہو تے ہیں مگر ان کا اندربدیوں اور گنا ہو ں سے بھرا ہو اہو تا ہے دوسرے وہ لوگ ہو تے ہیں جن کا ظاہر وباطن یکساں ہو تا ہے وہ عنداللہ تقویٰ پرقدم مارنے والے ہو تے ہیں ۔مگر ان دونومیں سے کا میا ب ہو نے والے وہی ہو تے ہیں جو عند اللہ متقی اور خدا کی نظر میں نیک ہو تے ہیں اور ان پر خدا تعالیٰ راضی ہو تا ہے صرف لاف کا م نہیں آسکتی۔
اس وقت دو قوموں کا آپس میں مقابلہ ہے ۔ایک توہما رے مخالف ہیں اور دوسر ی ہما ری جما عت ۔اب خدا تعالیٰ دونوں کے دلوں کو دیکھتا اور ان کے اعما ل سے آگا ہ ہے وہی جا نتا ہے کہ ہما ری جما عت اس کی نگاہ میں کیسی ہے اور دشمن کیسے؟ اور وہ ان سے کہا ں تک ناراض ہے پس ہرایک کو چاہئیے کہ اپنا حسا ب خودٹھیک کرلے چاہئیے ۔کہ دوسروں کا ذکر کر تے وقت تقویٰ سے بھرے ہو ئے دل کے ساتھ اپنے اعمال کا خیال ہو کہ کہا ں