غالب آجا ویں گے ۔دوم یہ کہ بلندی ک دوسری کی طرف انسان قوت اور جرأت کے بغیر دوڑا ور چڑھ نہیں سکتا اور مذہب پر غالب آجا نا بھی ایک بلند ی ہی ہے معلوم ہو تا ہے کہ ان پر وہ زما نہ بھی آجاے گا کہ مذہب کے اوپر سے بھی گذر جا ویں گے یعنی اپنے اس تثلیثی مذہب سے بھی عبور کر جا ویں گے اور اس کو پاؤں کے نیچے مسل دیویں گے اور اسی سے ہمیں ان کے اسلام میں داخل ہو جا نے کی بو آتی ہے ۔پہلی با ت تو پوری ہو چکی ہے اب انشائاللہ دوسری بات پوری ہو گی اور یہ با تیں خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ ہو ا کرتی ہیں ۔جب خدا تعالیٰ کی مشیت ہو تو ملائکہ نا زل ہو تے ہیں اور دلوں کو حسب استعداد صاف کرتے ہیں ۔تب یہ کا م ہو اکرتے ہیں۔ آنحضرت ؐ کا خلق عظیم فر ما یا کہ :۔ آنحضرت ﷺ کے اخلا ق کا نمونہ ،ایک صوفی لکھتا ہے کہ آپ کے پاس ایک نصرانی ملاقات کو آیا ۔آپ نے اس کو اپنا مہمان کیا ۔ رات کو کھا نا اوربستر دیا مگر وہ کمبخت بہت کھا ھیا ۔رات کو بد ہضمی ہو ئی تو لحاف میں اس کا دست نکل گیا ۔اس لیے شرمندہ ہو کر صبح کو چوری چوری چل دیا ۔جب وہ دور نکل گیا تو آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا کہ مہما ن چلا گیا ہے بستر دیکھا تو پا خانہ سے بھراہو ا ۔آپ نے اسے ہا تھ سے دھونا شروع کیا ۔صحابہؓ نے ہرچنداصرار کیا کہ ہم دھوئیں مگر آپ نے فر ما یا کہ وہ میرامہما ن تھا مجھے دھونے دو ۔ ادھرراستے میں نصرانی کو دیا کہ وہ اپنے سونے کی صلیب بستر پر بھو ل آیا ہے ۔اسے لینے کے اسطے وہ واپس آیا ۔دیکھا تو آپ وہی نجاست بھرالحاف اپنے ہاتھ سے دھورہے ہیں ۔اس نظارہ کو دیکھ کر صلیبی ایما ن پراس نے لعنت کی اور مسلمان ہو گیا۔ در بار شام رقّت کی لذت طاعون کے متعلق باتیں ہو تی رہیں ۔ایک عرب صاحب نووارد تھے ۔انہوں نے قرآن شریف سنایا اس کی لذت اور رقّت کے متعلق باتیں ہو تی رہیں ۔حضرت اقدس نے فر مایا کہ دنیا میں ہزاروں لذتیں ہیں مگر رقّت جیسی کوئی بھی لذت نہیں ۔یہی ہے جس سے نماز اور عبادت کا مزاآتا ہے اور پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا (الحکم جلد ۷نمبر ۱۳ صفحہ۱۴ مورخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳؁ئ) ۱؎