طلا ق ایک وقت میں کا مل نہیں ہو سکتی ۔طلاق میں تین طہرہو نے ضروری ہیں ۔فقہاء نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائزرکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدّت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کرسکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کرسکتی ہے ۔
قرآن کریم کی روسے جب تین طلاق دیدی جاویں تو پہلاخاوند اس عورت سے نکا ح نہیں کرسکتا جبتک کہ وہ کسی اور کے نکا ح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلاعمدًاسے طلاق دیدے ۔اگر وہ عمدًا اسی لیے طلاق دیگا کہ اپنے پہلے خاوند سے و ہ پھر نکاح کرلیوے تویہ حرام ہوگا کیونکہ اسی کانا م حلالہ ہے جوکہ حرام ہے ۔فقہاء نے جو ایک دم کی تین طلاقوں کو جائز رکھا ہے اور پھر عدّت کے گذرنے کے بعد اسی خاوند سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اوّلاسے شرعی طریق سے طلاق نہیں دی۔
قرآن شریف سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا تعالیٰ کو طلاق بہت ناگوارہے کیونکہ اس سے میاں بیوی دونوں کی خا نہ بربادی ہو جا تی ہے اس واسطے تین طلاق اور تین طہر کی مدت مقررکی ہے کہ اس عرصہ میںدونواپنا نیک وبدسمجھ کراگر صلح چاہیں توکرلیں۔
نماز جنازہ
فر مایا :۔
اگر متوفیٰ بالجہر مکفر اور مکذب نہ ہو تواس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں ۔کیونکہ علّام الغیوب خدا کی ذات ہے ۔فر مایا۔جو لوگ ہمارے مکفّر ہیں اور ہم کو صریحاً گالیاں دیتے ہیں ۔اُن سے السلام علیکم مت لو اور نہ اُن سے مل کرکھانا کھائو۔ہاں خرید وفروخت جائز ہے اس میں کسی کا احسان نہیں ۔جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ اُدھر کا ہوں اور نہ اُدھر کا ہوں اصل میں وہ بھی ہمارا مکذب ہے اور جو ہمارا مصّدِق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں وہ بھی مخالف ہے ایسے لوگ اصل میں منافق طبع ہو تے ہیں ۔اُن کا یہ اصول ہو تا ہے کہ
بامسلماں اللہ اللہ بابر ہمن رام رام
ان لوگوں کو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہو تا ۔بظاہر کہتے ہیں کہ ہم کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتے مگر یاد رکھو کہ جو شخص ایک طرف کا ہو گا اس سے کسی نہ کسی کا دل ضرور دکھے گا۔
من کل حدب ینسلون
فر ما یا کہ:۔
میںَ نے ا س آیت پربڑی غور کی ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ ہر ایک بلندی سے دوڑیں گے ۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ دوصورتیں ہیں اوّل یہ کہ ہرایک سلطنت پر