مومن بڑا غیر ت مند ہو تا ہے کیا غیر ت اس امر کا تقاضا کر تی ہے کہ وہ توگا لیا ں دیں اور تم ان سے السلام علیکم کرو؟ ہا ں البتہ خرید وفروخت جا ئزہے ۔اس میں حرج نہیں ۔کیو نکہ قیمت دینی اور ما ل لینا کسی کا اسمیں احسا ن نہیں ۔
من کل حدب ینسلون کی تفسیر
ہمیں کئی با ر اس آیت کی طرف تو جہ ہو ئی ہے اور اس میں سوچتے ہیں کہ
من کل حدب ینسلون(الانبیاء :۹۷)
اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ ساری سلطنتیں ،ریاستیں اورحکومتیں اس سب کو اپنے زیرکرلینگے اور کسی کو ان کے مقابلہ کی تا ب نہ ہو گی ۔
دوسر ے معنے یہ ہیں کہ حدب کے معنے بلندی ۔نسل کے معنے دوڑنا ۔یعنی ہربلندی پرسے دوڑجاویں گے کل عمومیت کے معنے رکھتا ہے یعنی ہر قسم کی بلندی کو کود جا ویں گے ۔بلندی پر چڑھنا قوت اور جرأ ت کو چا ہتا ہے ۔نہا یت بڑی بھا ری اور آخری بلندی مذہب کی بلندی ہو تی ہے ۔ساری زنجیروں کوانسان توڑسکتاہے مگر رسم اور مذہب کی ایک ایسی زنجیر ہو تی ہے کہ اس کو کوئی ہمت والاہی توڑسکتا ہے۔
سوہمیں اس ربط سے ایک یہ بھی بشارت معلوم ہو تی ہے کہ وہ آخر کا راس مذہب اور رسم کی بلندی کو اپنی آزادی اور جرأت سے پھلانگ جاویں گے اور آخر کا راسلام میں داخل ہو تے جاوینگے اور یہی ضالّ کے لفظ سے بھی ٹپکتا ہے اور اس امر کی بنیادی انیٹ قیصرجرمن نے چنددن ہو ئے ا پنا عقیدہ عیسویت کے متعلق ظاہر کر کے رکھدی ہے ۔
دجاّ ل کیــ کا نا ،، ہو نے سے مراد
یہ جوحدیث شریف میں آیا ہے کہ دجاّ ل کا نا ہو گا۔ ایک آنکھ با لکل نہ ہو گی اور دوسر ی میں ُگل ہو گا یہ ایک نہا یت باریک استعارہ ہے ۔یعنی اس کی ایک آنکھ (قرآ ن کی آنکھ) تو با لکل نہ ہو گی ۔اس طرف سے تو وہ با لکل اندھا اور کا لمیت ہو گا اور دوسری توریت والی سووہ بھی کا فی ہو گی اس میںبھی ُگل ہو گا یعنی اسکی تعلیم پر بھی پورے طور سے کا ر بند نہ ہو نگے ۔
چنا نچہ واقعہ نے کیسا صاف بتا دیا ہے کہ یہ اسی طرح ہے اورآنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کیسی صاف طور سے پوری ہوئی ہے۔
عیسویت کے ابطال کے واسطے تو ایک دانا آدمی کے لیے یہی کا فی ہے کہ اسن کے اس عقیدہ پر نظر کرے کہ خدا مرگیا ہے بھلا کو ئی سوچے کہ خدا بھی مراکرتا ہے ۔اگر یہ کہیں کہ خدا کی روح نہیں ۔بلکہ جسم مرا تھا تو ان کا کفا ر ہ با طل ہو جا تا ہے ۔
(الحکم جلد ۷نمبر ۱۳ صفحہ ۱۳ ۔۱۴ مورخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۴؍اپریل ۱۹۰۳ء
(بوقت سیر)
طلا ق
ایک شخص کے سوال پر فر ما یا کہ :۔