آئیں گے بلکہ آنے والا اُس کا مثیل اس کی خُو بُو لے کر آوے گا ۔ جیسا کہ ایت قرآن شریف فَلَمَّاتَوَفَّتَنِی میںصاف بیان ہے ۔
تو ہینِ عیٰسیؑ کے اعتراض کا جواب
پھر کہتے ہیں کہ سید نا لمسیح کی تو ہین کرتے ہیں ۔بھلا سوچو تو کہ ہم اگر اپنے پیغمبر سے ان چھوٹے اعتراضات جو نا فہمی اور کور چشمی سے کر کے مسیح کو آسما ن پر زندہ بٹھاکر آنحضر ت ﷺ پر کئے جا تے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے مسیح کی اصلی حقیقت کا اظہار نہ کریں تو کیا کریں ؟ ہم اگر کہتے ہیں کہ وہ زندہ نہیں بلکہ مرگئے جیسے دوسرے انبیا ء بھی مرگئے تو ان لوگوں کے نزدیک تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہوئی ۔ہم خدا تعالیٰ کے بلا ئے بولتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو فرشتے آسما ن پر کہتے ہیں ۔افتراء کر نا تو ہمیں آتا نہیں اور نہ ہی افتراء خدا کو پیارا ہے ۔اب اللہ تعالیٰ جا نتا ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کی کسر شا ن اور ہتک کی گئی ۔ضرور ہے کہ اس کا بدلہ لیا جا وے اور آنحضرت ﷺ کے نوراور جلا ل کو دوبا رہ ازسرنوتازہ وشا داب کرکے دکھا یا جا وے اور یہ مسیح کے بت کے ٹوٹنے اور اس کی مو ت کے ثابت ہو نے میں ہے پس ہم خدا تعالیٰ کے منشا ء اور ارادے کے مطابق کرتے ہیں اب ان کی لڑائی ہم سے نہیں خدا تعالیٰ سے ہے ۔
ان لو گو ں نے حضر ت مسیحؑ کو خا صہ خدا بنا یا ہو ا ہے اور موحدّ کہلا تے ہیں ان کا اعتقادہے کہ وہ زندہ ہے قائم علی السما ء ہے۔خالق۔رازق ۔غیب دان ۔محی ۔ممیت ہے ۔بھلااب بتلا ؤ کہ اگر یہ صفا ت خدا کی نہیں تو کس کی ہیں ؟ بشر یتّ تو ان صفا ت کی حا مل ہو سکتی نہیں ۔پھر خدائی میں فرق ہی کیا رہا؟یہ تو عیسائیوں کو مدددے رہے ہیں ۔پورے نہیں نیم عیسائی تو ضرور ہیں اگر ہم ان کے عقائد ردیہّ کی تردیدنہ کریں تو کیا کریں ؟پھر ہمیں ما ننا پڑیگا کہ نعودبا للہ اسلا م ۔آنحضرت ﷺ ۔خدا تعالیٰ کی طرف سے پا ک نبی اور قرآن شریف خدا کا کلا م برحق نہیں ۔حضرت مسیحؑ زندہ نہیں بلکہ مرکر کشمیر سرنیگر محلہ خانیار میں مدفون ہیں ۔یہی سچا عقیدہ ہے
طلا ق اور حلا لہ
ایک صاحب نے سوال ۱؎ کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلا ق لکھدیتے ہیںان کی وہ طلا ق
جا ئزہو تی ہے یا نہیں ؟
اس کا جو اب میں فرما یا کہ :۔