لکھا ہے ایک دفعہ ان میں سے پانسوآدمی مرتد ہو گئے تھے ۔یہ لوگ اگر حضرت موسیٰؑ کے دوبا ر ہ آنے کی اُمید رکھتے تو کچھ موزون بھی تھا کیو نکہ وہ صاحب عظمت اور جبروت تو تھے ان میں شجا عت بھی تھی ۔اب یہ عیسیٰ کے پیچھے پڑے ہو ئے ہیں ۔
پھر مشکل یہ ہے کہ عادت کا جا نا محا ل ہے ان کو مارکھا نے اور بزدل کی عادت ہو گئی تھی وہ اگر دجا ل سے جنگ کریں گے تو کس طرح؟ادھر ان مسلما نوں کی بھی یہ عادت ہو گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہی آویں گے لکیر کے فقیر ہیں ۔با پ دا دااور مولوی جو اس با ت کی تعلیم دیتے ہو ئے گذرگئے ۔وہ خواہ قرآن شریف کے مخالف ہی ہو وہ اسی ہندووں کی گنگا کی طرح اس اعتقاد کو تر ک نہ کریں گے خواہ کو ئی ذلیل ہو یا نہ ہو۔
ان لو گوں کو تو اپنے گھر کا بھی حال معلوم نہیں کہ ان کیاس اعتقاد نے اسلا م کو کیسا ضعف پہنچایا ہے عیسائی جب کسی کو مرتد کرنے پر کرتے ہیں تویہی حجت پکڑتے ہیں کہ تمہا ری نبی مردہ اور ہمارا زندہ آسما ن پر موجود ہے ۔اب بتا و کہ ان دونومیں سے کو ن اچھا اور خدا تعالیٰ کا پیا را ہے اور وہ مسلمانوں کی کتا بوں سے ہی نکال کر کھادیتے ہیں ۔اب قریباََ ہرایک فرقہ میں سے الگ الگ ملاِ جلا کر۲۹ لا کھ کے قریب آدمی مرتد ہو چکے ہیں کیا سّید کیا پٹھان کیا قریش اور کیا مغل ۔ہرقوم اس وبا میں ہلا ک ہو ئی ہے ۔ایسے ایسے لوگ جو فخر اسلا م کہنے کے ستحق بن جا نے کے قابل تھے وہ اب بیدین ہو کرآنحضرت ﷺ گا لیا ں دیتے ہیں اور پھر اسی پرابھی تما م نہیں بلکہ وہ جا ن سے مال سے عزت وجاہ سے عورتوں سے لڑکیوں سے اس امر کے لیے کو شاں ہیں کہ کسی طرح دنیا سے اسلام کا نشا ن مٹادیں ۔بھلا اگر یہی وہ فتا ن لوگ نہیں تواور َ کون ہو گا ؟ اس قوم کا فتنہ تومسلمانوں کے بناوٹی دجاّ ل کے فتنہ سے بھی کہیں بڑھ گیا ۔بھلا یہ بتاویں توسہی اس قوم کی جس کا فتنہ دجال سے بھی زیا دہ ہے خبر کہا ں دی گئی ہے ۔قرآن شریف نے تواسی واسطے دجال کا نا م نہیں لیا بلکہ ولاالضالین کہا جس سے مراد یہی قوم نصاریٰ ہے ولاالدجال کیوںنہ کہا۔اصل امر یہی ہے کہ وہ ایک قوم ہے جس سے تما م انبیا ء اپنی اپنی امتّ کو ڈراتے آئے ہیں ۔ان لو گو ں کے خیالا ت کی بناء احادیث موضوعہ پر ہے جو قرآن شریف کی مہُر سے خالی ہے ۔ مگر ہم قرآن شریف کو ان احادیث کی خاطر چھوڑ نہیں سکتے ۔ قرآن شریف بہر حال مقدم ہے ۔بھلا قرآن کو تو آنحضرتﷺ نے خود جمع کیا ۔ لکھوایا اور پھر نمازوں میںبار بار پڑھ کر سُنایا ۔کیا اگر احادیث بھی ویسی ہی ضروری ہیں تو اُن میں سے بھی کسی کو اسی طرح جمع کیا اور بار بار سُنایا اور دَور کیا ؟ہرگز نہیںجب نہیں کیا تو کیا آنحضرت ﷺنے اپنے فرضِ منصبی میں کوتاہی کی ؟ہرگز نہیں ۔ بلکہ صحیح امر یہی ہے کہ قرآن شریف ہی آپ لائے تھے اور اسی کے جمع کرنے کاآپ کو حکم تھا سو آپ نے کر دیا ۔ اب احادیث میںسے وہ قابلِ عمل اور اعتقاد ہے ۔ جس پر قرآن شریف کی مہر ہو کہ وہ اس کے خلاف نہیں۔
پھر اسی پر بس نہیں۔قرآن شریف کہتاہے کہ عیٰسیؑ مر گئے اور پھر دوبارا قیامت تک وہ اس دنیا میں نہیں