غر ض تو ہین کے کئی پہلو ہو تے ہیں ۔حضرت عیسیٰ کی اتنی تعریف کی جا تی ہے کہ گو یا ان پر جب مصیبت آئی تو خدا تعالیٰ کو زمین پران کے بچاوکی کو ئی راہ نظر نہ آئی اور ان کو آسما ن پر اور پھر دوسرے آسما ن پر جا چھپا یا ۔با لمقابل آنحضر ت ﷺ پر جب سخت مصائب اور شدائد آے تو اللہ تعالیٰ نے معوذبا للہ نقول مولویوں کے آپکو با لکل بے مدد اور کس مپرس چھوڑدیا اور آپ کو ایک غار میں جو آسما ن کے مقابل میں جس طرح وہ بلند یہ اسفل میںواقع تھی ،پنا ہ دی ۔غار کی تعریف بھی کیا کہ بچھووں ،سانپوں اور ہرقسم کے موذی حشرات الا رض کا گھر تھا ۔بھلا اب سوچویہ توہین نہیں تو کیا ہے ؟ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سرورکا ئنا ت فخر الا ولین والآ ین اسرف الخلق تو امید وارہیں کہ ہم لمبی عمرپا ویں مگر ان کو تو صرف تر لسٹھ برس کی عمر دی جا تی ہے اور ان کے مقابل میں حضر ت عیسیٰ گویا اب تک زندہ ہیں اور دوہزاربرس ان کی عمر ہو چکی ہے اور ان کی حا لت میں کو ئی تغیرّواقع نہیں ہو ا ۔آپ رہتے تو دنیا کی اصلا ح کرتے جیسا کہ پہلا تجربہ بتا چکا ہے۔ کہ ضرورہزاروں کی اصلا ح کرتے اگر اور عمر پا تے ۔مگر بالقابل حضرت عیسیٰ اتنی عمر میں نہ کو ئی نیکی کرتے ہیں نہ نما ز ہے ۔نہ روزہ نہ زکا ت اور نہ کسی کی اصلا ح ہے ۔ان سے نہ کسی کو نفع ہے اور نہ کسی سے کسی قسم کے ضررکودور کرسکتے ہیں ۔نیز پرانا تجربہ بھی اس امر کا کا نی شاہد تھا ۔کہ صرف با رہ آدمی مدت کی کو شش سے تیا رکئے ۔آخر وہ بھی یو ں الگ ہو ئے ۔کہ کسی نے لعنت کی اور کسی نے تیس روپے کے عوض دشمن کے ہا تھ میں دے دیا ۔ پھر مرنے کے بعد جب آنحضرت ﷺکی روح آسما ن پر گئی۔ تو پھر وہ حریف موجود تھے۔ کہ وہ تو آسما ن میں مع جسم عنصری تشریف رکھتے ہیں اور جنا بؐ کا جسم ہزاروں من مٹی کے نیچے پڑا ہے اور پھر اسی پرختم نہیں ۔آخرکا ر آپ کی امت میں وہ پھر آویں گے اور چا لیس سا ل تک ان پر حکومت کریں گے اور ان سے بیعت لیں گے ۔بھلا غور تو کرو کہ یہ توہین نہیں تو اَور کیا ہے ۔ پھر ایک با ت اورَہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے ساتھ قرآن شریف میں یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں َ تیری اُمتّ میںسے تیری امت کی اصلا ح کے واسطے خلیفے بھیجتارہو ں گا ۔مگر آخر اس وعدہ کا ذرابھی پا س نہ کیا اور ایک قوم میں سے جس کے متعلق اس نے وعدہ کر لیا ہو ا تھا کہ اس قوم پر میرا غضب نازل ہو چکا ہے میں َ ان پر کبھی کو ئی روحانی اور جسماٰ نی فضل ونعمت ہرگزنا زل نہ کروں گا مگر آخر آنحضرت ﷺ سے بھی وعدہ خلا فی فرما کراسے بھیجا اور اپنے قانون کو بھی توڑا ۔کیا یہ کو ئی گو ار اکرسکتا ہے کہ خدا پروعدہ خلافی عائد ہو ۔ہرگز نہیں ان اللہ لایخلف المیعاد۔(آل عمران :۱۰) ہما ری تو بہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ اس عیسٰی کو اتا ر کرکرنیگے کیا؟ آخر ان کے قویٰ تو وہی ہو ں گے جو پہلے تھے ۔پہلے کیا کیا تھا جو اَب کریں گے ۔ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی ان کی اصلا ح بھی نہ ہو ئی ۔