ایمان کیوںنہیں لاتے ؟آنحضرت ﷺ کے واسطے خداتعالیٰ نے ہرگز نہ چاہا باہر سے لوگ آویں۔سورہ نور میںبھی وعدہ ہے کہ تمام خلیفے اور امام تیری اُمّت میںسے آویں گے سو خدا تعالیٰ نے وہ پو را کیااور اسی طرح سے اب ہمیںمامور کیا ۔ جیسے چودہ سو برس کے بعدموسؑیٰ کی امّت میںسے مسؑیح آیا تھا ۔ویسے ہی چودہ سَو برس گذرنے کے بعد ہمیں بھیجا وہ مسیح بھی صاحب شریعت نہ تھے تورات پر ان کا عمل تھا ایسے ہی ہم ہیں تا کہ مماثلت پوری ہو اور کو ئی کمی نہ رہ جاوے ۔ جیسی محبت خدا تعالیٰ ہم سے کر تا ہے ویسی کسی اور سے نہیں کرتا ۔اگر یہ خیا ل ہو کہ عیسیٰ کو خدا تعالیٰ آسما ن پر لے گیا ۔اس کو آج تک زندہ رکھا اور اس کو پھر لا وے گا تو ساری محبت خدا کی عیسیٰ کے ساتھ چاہئیے جو ان تما م با توں کو غور سے دیکھے گا تو سمجھے گا کہ جو آپ کی شا ن ہے وہ اور کسی نبی کی نہیں ہے جب تک تم آنحضرت ﷺ کو ہر خوبی میں افضل نہ جا نوگے مسلما ن نہ ہو گے بلکہ کرانی (یعنی عیسائی۔مرتب ) ہو گے یہ تو عقیدہ چاہئیے اور نما زوں میں دعا کرو کہ اے خدا طاعون سے ہمیں بچا جولو گ ہنسی کرتے ہیں اور کہتے ہیں بڑے آدمی کیو ں نہیں مرتے نا دان ہیں ۔خدا تعالیٰ کا کام ہے آہستہ آہستہ پکڑنا ۔اس لیے غافل نہ بنو۔تہجدوںمیںدعاکرو ۔ پانچوںوقت کی نمازوںمیںدُعاکرو ۔ جب تمہارا گھر دعا سے بھر جاوے گا تو پھر ہرگزوَبانہ آوے گی اوراگر کوئی روک رکھو گے تو دعا کا م نہ دیگی۔ خداتعالیٰ کے سا تھ معاملہ صاف رکھو گے تو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ تم کو ضرور محفو ظ ر کھے گا۔ ۱ ؎
دربارِ شام
حضرت عیٰسیؑ کی محّبت میں غلو اور آنحضرت ﷺ کی تو ہین
بر ہا ہمیں یہ تعجب آتا ہے کہ کیو ں یہ لوگ حضرت عیسٰیؑ سے بیجا محّبت کر تے ہیں انہوںنے ان کا کیا دیکھا تھا جو ان پر ایسے شیداہیں کہ اُن کو خدا ہی بنا دیا ہے ۔ ایسے اُن کی محّبت
میں اندھے ہوئے ہیںکہ آنحضرتﷺ جن کا کلمہ پڑھتے ہیں انکی توہیں اپنی زبان سے کرتے ہیں۔ توہین کیا ہوتی ہے یہی کہ ایک شخص جس میںاعلیٰ درجہ کے اوصاف ہوں اس کو نظرانداز کرکے ایک ایسے شخص کو اس سے بڑھ چڑھ کر متّصفَ باَ و صاف کیا جا وے جس میںوہ اوصاف نہیںہیں ۔ تعزیرات میں توہین کی مثال کے نیچے یہ مثال لکھی ہے کہ زید اور بکر نے (جو درحقیقت چور تھے )چوری کی ہے مگر عمرو (جو ایک شریف آدمی ہے اور درحقٰقت اس کی کوئی سازش اس چوری میںنہیں ) نے چوری نہیں کی ۔ اور نہ ہی اس کا اس میں کچھ تعّلق ہے تو قانونـاً ایسا کہنے والا شخص عمرو کی توہین کرتا ہے اور وہ مجرم قرار دیا جاوے گا اور مستحقِ سزا کا ہو گا ۔