سست ہوا کرتا ہے مثلاََ ایک افیونی ہے تووہ نشہ میں مبتلا ہو کر عیالداری کے لیے کیا کچھ کریگا ؟ اوراسی طرح بعض عادتیں اس قسم کی ہو تی ہیں کہ کنبہ اور اہل وعیال کے آدمی اس کے حامی ہو تے ہیں اور اس کا چھوڑنا اور بھی دشوار تر ہو تا ہے ۔مثلاََ ایک شخص بذریعہ رشوت روپیہ حا صل کرتا ہے عورتوں کو اکثر علم نہیں ہو تا وہ تواس کو اچھا جا نیں گی کہ میرا خاوند خوب روپیہ کما تا ہے وہ کب کوشش کریگی کہ خاوند سے یہ عادت چھوڑاوے تو ان عادتوں کوچھوڑانے والا بخبر اللہ تعالیٰ کی ذات کے کو ئی نہیں ہو تا ۔باقی سب اس کے حا می ہو تے ہیں بلکہ ایک شخص جونما ز روزہ کو وقت پر ادا کرتا ہے اسے یہ لوگ سست کہتے ہیں کہ کا م میں حرج کرتا ہے اور جونما ز روزہ سے غافل رہ کر زمینداری کے کا موں میں مصروف رہے اسے ہوشیار کہتے ہیں اس لیے میں َکہتا ہوں کہ توبہ کرنی بہت مشکل کا م ہے۔ ان ایا م میں توبہت سے مقابلے آکر پڑے ہیں ۔ایک طرف عادتوں کوچھوڑنا دوسری طرف طاعون ایک بلا کی طرح سرپرہے ۔اس سے بچنا، اب دیکھوکونسی مشکل کو تم قبو ل کر سکتے ہو ۔رزق سے ڈرکر انسا ن کو کسی عادت کا پابندنہ ہو نا چاہئیے ۔اگر اس کا خدا تعالیٰ پر ایما ن ہے تو خدا تعالیٰ رزاق ہے ۔اس کا وعدہ ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کا ذمہ دار میں َ ہو ں من یتقاللہ یجعل لہمخرجاویرزقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق:۳،۴) یعنی با ریک سے با ریک گنا ہ جو ہے اسے خدا تعالیٰ سے ڈرکرجوچھوڑے گا خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل سے اسے نجا ت دیگا ۔یہ اسلئیے کہا ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم تو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلا ت آپڑتی ہیں کہ پھر کر نا پڑجا تا ہے خداتعالیٰ وعدہ فر ما تا ہے کہ وہ اسے ہرمشکل سے بچا لیگا ۔پھر آگے ہے یرزقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق:۳،۴) یعنی ایسی راہ سے اسے روزی دیگا کہ اس کے گما ن میں بھی وہ نہ ہو گی ۔ایسے ہی دوسرے مقام پر ہے ۔ وھو یتولی الصالحین (اعراف:۱۹۷) جیسے ماں اپنی اولا د کی والی ہو تی ہے ویسے ہی وہ نیکوں کا والی ہو تا ہے پھرفر ما تا ہے ونی السمائرزقکم وماتوعدون یعنی جوکچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور تمہارا رزقآسما ن پرہے ۔ جب انسا ن خدا پرسے بھروسہ چھوڑتا ہے تودہریت کی رگ اس میں پیدا ہو جاتی ہے ۔خدا تعالیٰ پربھروسہ اور ایما ن اس کا ہو تا ہے جواسے ہربا ت پرقادر جانتاہے ۔ اب ایسا زما نہ ہے کہ جو توبہ کرنا چاہتے ہیں ۔خدا تعالیٰ ان با توں کیلئے اپنے ہا تھوں سے ان کی مددکررہا ہے اس کی ذات رحمت سے بھری ہو ئی ہے طاعون کے حملے بہت خوفناک ہو تے ہیں مگر اصل میں یہ رحمت ہے سختی نہیں ہے ۔ہزاروں لوگ ہوںگے جوکہ عبا دت سے غافل ہو نگے ۔اگر اتنی حشپم نمائی خدا تعالیٰ نہ کرے توپھرتولوگ بالکل ہی منکرہو جا ویں یہ تواس کا فضل ہے کہ سوئے ہووںکو ایک تازیا نہ سے جگا رہا ہے ورنہ اسے کیاپڑی ہے کہ کسی کوعذاب دیوے جیسا کہ وہ فر ما تا ہے ما یفعل اللہ بعذابکمان شکرتموامنتم(النسائ:۱۴۸) کہ اگر تم میری راہ اختیار کٔروتو تم کو کیوں عذاب ہو۔