طا عون ۱ ؎ کے ذکر پر فر ما یا کہ :۔ آجکل تو لوگ فر عون کی خصلت رکھتے ہیں کہ چا روں طرف سے خوف آیا تو ایما ن لے آئے اور ما ن لیا ۔جب خوف جا تا رہا تو پھر مخالفت شروع کردی ۔ (الحکم جلد ۷نمبر۱۳ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۳؁ئ) ۳؍اپریل ۱۹۰۳؁ء اقرار بیعت کے اثرات نما ز جمعہ کے بعد گرونواح کے لو گوں اور چند ایک دیگر احبا ب نے بیعت کی ۔بعد بیعت حضرت احمد مرسل مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام نے ذیل کی تقریر کھڑے ہو کر فر ما ئی۔ اس وقت تم لو گوں نے ا للہ تعا لیٰ کے سا منے بیعت کا اقرارکیا ہے اور تما م گنا ہوں سے تو بہ کی ہے اور خدا تعا لیٰ سے اقرار کیا ہے کہ کسی قسم کا گنا ہ نہ کریں گے ۔اس اقرار کی دوتاثیر یں ہو تی ہیں ۔اقراربیعت یا تو رحمت ہے یا با عث عذاب ۔یا تو اس کے ذریعہ انسا ن خدا تعا لیٰ کے بڑے فضل کا وارث ہو جا تا ہے کہ اگر اس پر قائم رہے تو اس سے خدا تعا لیٰ راضی ہو جا ئے گا اور وعدہ کے موافق رحمت نازل کرے گا اور یا اس کے ذریعہ سخت مجرم بنے گا کیو نکہ اگر اقرار کو تو ڑے گا توگو یا اس نے خدا تعالیٰ کی توہین کی ۔جس طرح سے ایک انسا ن سے اقرار کیا جا تا ہے اور اسے بجا نہ لا یا جا وے تو توڑنے والا مجرم ہو تا ہے ایسے ہی خدا تعالیٰ کے سا منے گنا ہ نہ کرنے کا اقرار کرکے پھر توڑنا خدا تعالیٰ کے روبروسخت مجرم بنا دیتا ہے ۔آج کے اقرار اور بیعت سے یا تو رحمت کی ترقی کی بنیا د پڑگئی اور یا عذاب کی ترقی کی ۔ اگر تم نے تما م با توں میں خدا تعالیٰ کی رضا مندی کو مقدم رکھا اور مدت درازکی تما م عادتوں کو بدل دیا تو یادرکھو کہ بڑے ثواب کے مستحق ہو عا دت کو چھوڑنا آسا ن با ت نہیں دیکھتے ہو کہ ایک افیونی یا جھوٹ بولنے والے کو جو عادت پڑگئی ہو ئی ہو تی ہے اس کا بدلنا کسقدر مشکل ہو تا ہے ۔اس لیے جو اپنی عادت کو خدا تعالیٰ کے واسطے چھوڑتا ہے تو وہ بڑی با ت کرتا ہے یہ نہ سمجھو کہ عادت چھوٹی ہویا بڑی ایک عرصہ تک انسا ن جب گنا ہ کرتا ہے تو اس کے قویٰ کو ایک عادت اس کے کرنے کی ہوجا تی ہے ۔تو کیا تمہا رے نزدیک اسے چھوڑدینا کو ئی چھوٹی با ت ہے ؟ جب تک کہ انسا ن کے اندرہمت استقلا ل نہ ہو تب تک یہ دور نہیں ہو سکتی ۔ما سوااسکے ان عادتوں کے بدلنے میں ایک اور مشکل ہے کہ عادتوں کا پا بندآدمی عیالداری کے حقوق کی بجا آوری میں