اس کی رحمت بہت وسیع ہے جیسے بچہ جب پڑھتا نہیںہے تو اسے مارپڑتی ہے اس کا سریہی ہے کہ اس کی آنیدہ زندگی خرا ب نہ ہو اور وہ سدھرجاوے ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ عذاب اس لیے دیتا ہے کہ لوگ سدھرجاویں اور یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے ۔ سچی توبہ کرو۔بھلا دیکھوتوسہی اگربا زار سے کو ئی دوامثل شربت بنفشہ کے تم لاؤاور اصل دواتم کو نہ ملے بلکہ سڑاہواپرانا شیراتم کو دیا جا وے تو کیا وہ بنفشہ کے شربت کا کا م دیگا ؟ہرگزنہیں اسی طرح سڑے ہو ئے الفا ظ جو زبا ن تک ہو ں اور دل قبول نہ کرے وہ خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچتے ۔بیعت کرانے والے کو ثواب ہو جا تا ہے مگر کرنیوالے کوکچھ حاصل نہیں ہو تا؟ بیعت بیعت کے معنے ہیں بیچ دینا ۔جیسے ایک چیزبیچ دی جا تی ہے تواس سے کوئی تعلق نہیں رہتا ۔خریدار کا اختیار ہو تا ہے جو چاہے سوکرے ۔تم لوگ جب اپنا بیل دوسرے کے پا س بیچ دیتے ہو توکیا اسے کہہ سکتے ہو کہ اسے اس طرح استعما ل کرنا ؟ہرگزنہیں ۔اس کا اختیا ر ہے جس طرح چاہے استعما ل کرے۔اسی طرح جس سے تم بیعت کرتے ہو ۔اگر اس کے احکا م پرٹھیک ٹھیک نہ چلوتوپھرکوئی فا ئدہ نہیں اٹھاسکتے ۔ہرایک دوایاغذاجب تک بقدرشربت نہ پی جا وے فا ئدہ نہیں ہواکرتا ۔اسی طرح اگر بیعت پورے معنوں میں نہ ہو تووہ بیعت نہ ہو گی ۔خدا تعالیٰ کسی کے دھوکہ میں نہیں آسکتا ۔اس کے ہا ں نمبراور درجے مقررہیں ۔اس نمبر اور درجہ تک توبہ ہو گی تو وہ قبول کرے گا جہانتک طاقت ہے وہاں تک کوشش کرو پورے صالح بنو۔ عورتوں کونصیحت کرو ۔نما زروزہ کی تا کیدکرو ۔سوائے آٹھ سات دن کے جوعورتوں کے ہو تے ہیں اور جس میں نما ز معاف ہے تما م نما زیں پوری پڑھیں اور روزے معاف نہیں ہیں ان کوپھراداکریں ۔انہی کمیوں کی وجہ سے کہا کہ عورتوں کا دین نا قص ہے ۔ اپنے ہمسایہ اور محلہ والوں کوبھی نیکی کی تاکیدکرو ۔غافل نہ ہو ۔اگر علم نہ ہو تو واقف سے پوچھوکہ خداتعالیٰ کیا چاہتا ہے ۔ مسلما نوں کی دینی حالت اس وقت مسلما نوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے جوخداتعالیٰ چاہتا ہے اسے بدل کراَور کااورَبنا دیا ہے ۔اس وقت ایک شوربرپا ہے ۔اگر کہا جا وے کہ آنحضر ت ﷺ فوت ہوئے ہیں اور عیسیٰ زندہ ہے توسب خوش ہو تے ہیں ۔مگر جب کہا جاوے کہ آنحضرت ﷺ زندہ اور خاتم النبین اور آپ کے بعدکوئی غیربنی نہیں آنے والا توسب نا راض ہو جاتے ہیں ۔ مسیح کو آنحضرت پرفضیلت نہ دو ہما رے بنیﷺ کو جیسے خدا تعالیٰ نے سب سے آخرپیداکیا ویسے ہی آخری درجے کے سب کما ل