عقیدہ کی اہمیت
عقیدہ ہی سے اعما ل میں قوت آتی ہے جیسا قوی اور کا مل عقیدہ ہو ویسے ہی اس کے مطا بق اعما ل صادر ہو ں کے ۔اگر عقیدہ ہی زنگ آلو دہ اور کمزوراور مردہ ہو گا تو پھر اعما ل کی کیا توقع ہوسکتی ہے ۔
اگرچہ ظاہر اعما ل نما ز روزہ میں تو مسلما ن با ہم مشترک ہیں ۔اور اکثر بجا لا تے ہیں۔ مگر پھر ان کے نتا ئج میں برکا ت کے اختلا ف کا با عث جو ہے تو صرف یہی عقیدہ ہے جن کے عقائد عمدہ اور کامل ہو تے ہیں ان کے لیے نتا ئج عمدہ اور برکا ت کثرت سے نا زل ہو تے ہیں ۔مگر کمزور ایما ن والے اپنے اعما ل کی قوت پر تو نگا ہ نہیں کرتے برکا ت کے نہ ملنے کی شکا یت کرتے ہیں ۔
عداوت کا فا ئدہ
فر ما یا :۔
محبت اور عقیدت کی توحید تو ایک جدا امر ہے مگر عدوات کی توجہ بھی بے فا ئدہ نہیں ہو تی بلکہ مفیدہو تی ہے ۔دیکھوآنحضرت ﷺ کے مکہ کے زما نہ میں آپ کے مقابل میں محبت اور عقیدت کی تو جہ تو نہایت ہی کم بلکہ کچھ بھی نہ تھی مگرد عوت کی توجہ کا مل طور سے تھی ۔اور آخر یہی دعوت کی تو جہ آپ کی عام لو گوں اور عرب کے کنا روں تک شہرت پہنچا نے کا با عث ہو گی ۔ورنہ آپ کے پا س اس وقت اور َ کیا ذریعہ تھا جو اپنی دعوت کو اس طرح شائع کرتے ۔آپ کے واسطے اس وقت تبلیغ کا پہنچانا نہا یت مشکل تھا مگر خدا تعالیٰ نے یہ کا م کیا کہ دشمنوں ہی کے ہا تھوں سے ایسا کرادیا ۔ ۱ ؎ اب موجودہ زما نے میںہما رے دشمن بھی ایسا ہی کرتے ہیں اگرچہ اس وقت کی فوری حا لت ایسی ہو تی ہے ۔کہ ہما ری جما عت کو ان لو گوں کی کارروائیوں سے رنج اور صدمہ ہو تاہے مگر ان کی کارروائیوں کا انجا م ہما رے مفید مطلب اور بخیر ہو تا ہے ۔اصل میں ان لو گوں کی گا لیا ں تو ایسی ہیں جیسے عورتیں شا دی کے موقعہ پر لڑکے والوں کو دیتے ہیں ۔ان سے اس وقت کون ناراض ہو تا ہے ؟ یہی مآل ان مخا لفوں کی گا لیوں کا ہے۔یہ گا لیاں ہما رے مفید مطلب ہیں۔یہ ہما ری تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہیں اور سعید اور شریف ان کی گا لیوں ہی سے اندازہ کرلیتے ہیں کہ حق کس کے پا س ہے ۔اسی طرح پر ہما ری جما عت ان میں سے ہی نکل کرآئی ہے اور دن بدن نکلتی آتی ہے۔