منی بمنذلہ تو حید ی وتفریدی
ایک نئی طرزکا الہا م ہے۔ ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبا رت میں اس قسم کے الفا ظ نہیں دیکھے اس کے معنے جو ہما رے خیا ل میں آتے ہیں یہ ہیں۔ کہ ایسا شخص بمنزلہ تو حید ہی ہو تا ہے ۔جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں تو حید الہیٰ کی نہا ت ہتک کی گئی ہو۔ اور اسے نہا یت ہی حقارت کی نگا ہ سے دیکھا جا تا ہو ۔ ۱؎ ایسے وقت میں آنے والا توحید مجسم ۲؎ ہو تا ہے ،ہرشخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص کا مقصودو مطلوب اللہ تعالیٰ کی توحید ہی ہو تی ہے وہ اللہ تعا لیٰ کی تو حید ہی ہو تی ہے وہ اللہ تعا لیٰ کی توحید کو اپنے طبعی جذبا ت اور مقا صد سے بھی مقدم کرلیتا ہے ۔اپنی ساری ضرورتوں کو پیچھے ڈال دیتا ہے ۔
اسی طرح پرہر ایک شخص کا اپنے مقاصد کا ایک بت ہو تا ہے اور وہ اس تک پہنچنا چا ہتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیا ر میںہوتا ہے کہ اس تک پہنچادے یا اس کی عمر کا پہلے ہی خاتمہ کردے ۔وہ اپنے ما ل یا عزت وآبروبا ل بچوں یا دوسری حوائج کے لیے تڑپتا ہے اوربخیود ہو تا ہے اور بسا اقات لو گ انہیں مشکلا ت میں پڑکر خود کشی بھی کرلیتے ہیں مگر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ما مور ہو آتا ہے اس کا یہی جو ش خدا تعالیٰ کی توحید کیلئے ہو جا تا ہے اوراپنی نفسا نی خواہشوں کی بجا ئے خداتعالیٰ کی تو حید کے لیے مضطرب اور بخیود ہو تا ہے ۔ ۳؎ میںَ سمجھتا ہو ں کہ یسے وقت میں یہ ا لفا ظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں کہ
انت منی بمنذلت توحیدی وتفریدی۔
کیو نکہ اللہ تعا لیٰ کو اپنی تو حید بہت ہی پیاری ہے
یہ تو حید تھی جس واسطے اللہ تعالیٰ نے کبھی وبا کبھی قحط اور کبھی اپنے پیارے انبیاء علیم السا م کے ہا تھ کی تلوار سے اس کے قیا م کے واسطے ہزاروں مشرک جا نوں کو تبا ہ کر دیا ۔مکہ اور مدینہ منورہ کے حا لا ت بھی صرف اسی کی خا طر پیچیدہ ہو ئے تھے ۔موسیٰ علیہ السلا م کا معاملہ بھی اسی تو حید کے لیے تھا۔ ۴ ؎