کی بے انتہا نظیر یں موجود ہیں ۔اگرایسا نہ ہوتا توانسا ن کی فطرت میں مصیبت اور بلا کے وقت دعا اور صداقات کی طرف رجوع کرنے کا جوش ہی نہ ہوتا۔ جسقدرراستباز اور نبی دنیا میں آئے ہیں خواہوہ کسی ملک اور قوم میں آئے ہو مگر یہ با ت اس سب کی تعلیم میںیکسا ں ملتی ہے کہ انہوں نے صدقات اور خیرات کی تعلیم دی ۔اگر خدا تعالیٰ تقدیرکے محواور اثبات پر قادرنہیں تو پھر یہ ساری تعلیم فضول ٹھہر جا تی ہے اور پھر ماننا پڑیگا کہ دعا کچھ نہیں اور ایسا کہنا ایک عظیم الشان صداقت کا خون کرنا ہے ۔اسلام کی صداقت اور حقیقت دعاہی کے نکتہ کے نیچے منفی ہے کیونکہ اگر دعا نہیں تو نما ز بے فا ئدہ زکوۃ بے سوداور اسی طرح سب اعمال معاذاللہ لغو ٹھہرتے ہیں ۔ ہما را بھروسہ خدا پر ہیَ ہما رے مخالف ہر طرف سے کو شش کرتے ہیں کہ ہما رے نا بود کرنے میں کو ئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں ۔ہرقسم کی تدبیر یں اور منصوبے کرتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ خدا تعا لیٰ پہلے ہی ہم کو تسلی دے چکا ہے مکرواومکراللہ واللہ خیرالماکرین۔ خدا کے ساتھ لڑکر کبھی کو ئی کا میاب نہیں ہو سکتا ان کا بھروسہ اپنی تدابیر اور َحیلَ پر ہے اور ہما را خدا پر استقامت وصبر کو ئی مشکل مشکل اور کوئی مصیبت مصیبت رہ سکتی ہی نہیں اگر کوئی شخص استقامت او رصبر اپنا شیوہ کرلے اور خدا تعالیٰ پرتوکل اور بھروسہ کرے ۔ خدا داری چہ غم داری نشا نا ت کا ظہور نشا نا ت جو ظاہر ہو تے ہیں یہ اسی طرح ظاہر ہو تے ہیں جیسے ایک بچہ پیدا ہو تا ہے ۔ایک رات تک تو ما ں خیا ل کرتی ہے کہ میں َ مرجا ونگی اور وہ دردزدہ کی تکلیف سے قریب المرگ ہو جا تی ہے ۔اسی طرح پرنبیوں کے نشا ن بھی مصیبت کے وقت ظاہر ہو تے ہیں ۔نشا ن کی جڑدعا ہی ہے یہ اسم اعظم ہے اور دنیا کاتختہ پلٹ سکتی ہے دعا مومن کا ہتھیا ر ہے اور ضرو ہے اور ضرو ہے کہ پہلے ابتہا ل اور اضطراب کی حالت پیدا ہو ۔ ( الحکم جلد ۷ نمبر۱۳ صفحہ ۱۳ مورخہ ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۰۳؁ئ) ۲ ؍ اپریل ۱۹۰۳؁ء دربا ر شامِ ا یک الہام کے معنی فر ما یا :۔ اللہ تعالیٰ کا ہما رے ساتھ بھی عجیب معاملہ ہے ۔ہما را یہ الہا م کہ انت