۲۹؍مارچ۱۹۰۳ئ
مجلس قبل ازعشاء
فر ما یا:۔
عصمتِ انبیاء
صلیب چونکہ جرائم پیشہ کے واسطے ہے ۔اس واسطے نبی کی شان سے بعیدہے کہ اسے بھی صلیب دی جا وے ۔اس لیے توریت میں لکھا تھا کہ جوکا ٹھ پر لٹکا یا جاوے وہ ملعون ہے آتشک وغیرہ جوخبیث امراض خبیث لوگوں کو ہو تے ہیں اس سے بھی انبیاء محفوظ رہتے ہیں ۔نفس قتل انبیاء کیلئے معیوب نہی ہے مگر کسی کا قتل ہو نا ثا بت نہیں ہے جس آلہ سے خبیث قتل ہو ۔اس آلہ سے نبی قتل نہیں ہو تا ۔
خوش خطی
خوش خطی َ پر فر ما یا کہ
حسن تنا سب اعضاء کا نا م ہے جبتک یہ نہ ہوملا حت نہیں ہو تی ۔اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنی صفت
فسولک نعدلک (الانفطار:۸)
فر ما ئی ہے عدلک کے معنے تنا سب کے ہیں کہ نسبتی اعتدال ہرجگہ ملحو ظ رہے۔
( البدرؔ جلد۲نمبر۱۲ صفحہ۹۰ ۔۹۰مو رخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۳۰؍ مارچ۱۹۰۳ء
بعد ادائے نما ز مغرب ایک صاحب نے کسی شخص ٖغیر حاضر کی طرف سے مسلہ دریا فت کیا کہ اس نے غصہ میں اپنی عورت کو طلاق دی ہے اور لکھ بھی دی ہے مگر ایک ہفتہ کے قریب گذرنے پروہ رجوع کرنا چاہتا ہے اس میں کیا ارشاد ہے ؟
حضرت اقدس نے فر ما یا کہ :۔
جب تک وہ شخص خودحاضر ہو کر بیا ن نہ کر ے ہم نہیں فقویٰ دے سکتے ۔
(البدر جلد۲نمبر۱۲ صفحہ ۹۱مو رخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
صدقات اور دعا
لوگ اس نعمت سے بے خبر ہیں کہ صدقات ،دعا اور خیر ات سے ردبلا ہوتا ہے اگر یہ با ت نہ ہو تی تو انسا ن زندہ ہی مرجا تا ۔مصائب اور مشکلا ت کے وقت کوئی اُمید اس کے لیے تسلی بخش نہ ہو تی مگر نہیں اسی نے
لا یخلف المیعاد (ال عمران:۱۰)
فر مایا ہے
لا یخلف الو عید
نہیں فر ما یا ۔اللہ تعالیٰ کے وعید معلق ہو تے ہیں جو دعا اور صدقات سے بدل جا تے ہیں اس