کرے اور چاہتا ہے کہ ہر قسم کے شرک ،کفر اور بطان کو ذلیل کرے ۔تو حید کی سچائی کو دنیا میں قائم کرے ۔اسی لیے اس نے تما م زما نہ میں ایک عجیب تحریک پیدا کردی ہے اور ہر ایک،طرف سے ہما ری ہی تا ئیدنظر آتی ہے مثلاََ ایک ذراسی آگ تما م جہان کے جلا نے کے لیے کا فی ہے ۔اسی طرح زما نہ میں یہ آگ لگ گئی ہے اور اب تو یہ ہوا چل رہی ہے کہ ان دلوں میں پھونک دیا گیا ہے کہ وہ ان تما م پرانے اور بے معنے بلکہ غیر معقول خیالا ت سے خود بخود بیزار ہو کر حقیقت اور راستی کے جویاں ہو جاویں ۔جیسے کہ اب جرمن کے بادشاہ کے مذہب میں سخت انقلا ب ہوا ہے ۔یہی ایک کا فی مثا ل ہے ۔جب سلا طین کے دل میں اللہ کریم نے ایسے ایسے خیالا ت ڈال دئیے ہیںتو رعیت کا بہت ساحصہ ایسا بھی ہو تا ہے جو کہ با دشاہ کے مذہب کے ہو تے ہیں اور اپنے با دشاہ کے اشاروں پر چلتے ہیں۔
اللہ تعا لیٰ کی شان ہے کہ ایک زما نہ میں تو حضرت مسیح کی حد سے زیادہ اور مبالغہ سے بڑھ کرتعریف کی گئی تھی اور اب اس کا رددرودیوار سے خود بخود عیاں ہو تا جا تا ہے ۔
(مجلس قبل ازعشائ)
حضرت ابوطالب کی نجات
بعض لوگ جو کہ غیر مذاہب میں برائے نا م ہو تے ہیں مگر خلوص دل سے وہ اسلام کے مداح ہو تے ہیں انکے ذکر پر فر ما یا کہ :۔
حضرت ابوطالب کی بھی ایسی ہی حالت تھی ۔خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ ایک خبیث اور شر یر کو ایک ادب اور لحاظ کرنے والے کے برا براکردیوے ۔اگر اس نے بظاہر تو مذہب قبول نہیں کیا مگر بزرگ سالی کی رعونت اس میں نہ تھی ۔احادیث میں بھی اس قدر تحقیقات کہیں نہیں ہو ئی ہے ممکن ہے کہ اس نے کبھی کلمہ پڑھ دیا ہو ۔بجز اعتقاد کے محبت نہیں ہوا کرتی ۔اول عظمت دل میں بیٹھتی ہے پھر محبت ہو تی ہے ۔
ایک ذکر پر فر ما یا کہ :۔
سادہ خوراک
ایک سا ل سے زیا دہ عرصہ گذرا ہے ۔کہ میں َ نے گو شت کا منہ نہیں دیکھا اکثر مسی روٹی (بیسنی )یا اچا راور دال کے ساتھ کھا لیتا ہوں آج بھی اچار کے ساتھ روٹی کھائی ہے
فر ما یا کہ :۔
نسخ
ایک سالک کی عمر میں نسخ ہوتا رہتا ہے ۔انبیاء کی زندگی میں بھی نسخ ہو تا اسی لیے اول حالت آخر حالت کے ساتھ مطابق نہیں ہواکرتی جسما نی حالتوں میں بھی نسخ دیکھا جا تا ہے ۔
(البدر جلد۲نمبر۱۲ صفحہ۸۹ ۔۹۰مو رخہ ۱۰ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)