سرکش اور ظالم طبع لو گ تھے۔اس مسلہ کو آج کل لوگوں نے خواب سمجھ لیا ہے برہمولوگوں نے بھی اس پر اعتراض کئے ہیں میںَ نے ایک برہموکی کتا ب میں دیکھا ۔وہ لکھتا ہے کہ تما م عمر مارہی کھاتے جا نا اور ہمیشہ طمانچے کھا نا بلکہ ایک گال زخمی کراکردوسر ی گال بھی پھیر دینایہ کہا ں کا انصاف ہے ؟ دومؔ انسا ن اس پر عمل کب کرسکتا ہے اور نہ کسی سے آج تک اس طرح کے عفوپرعمل ہوسکا ،انجیل کی اس تعلیم کے متبع عیسائی لوگ کبھی بھی اس مسلہ پر عمل نہ کر سکے آج کسی عیسائی کو ایک بات کہو جو کہ اس کی مرضی کے بر خلاف ہو پھر دیکھو وہ کتنی سناتاہے اورعدالت کی طرف دوڈتا کہ نہیں بعض نا دان عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اس تعلیم سے یہ مقصود ہے کہ مار طمانچہ کھا کرعرضی ڈال دواورعدالت سے چارہ جوئی کرو ۔لیکن اتنانہیں سوچتے ۔کہ اگرکسی نے ایک عیسائی کو طمانچہ مارا کراس کے دانت نکال دئیے پھر اس نے حسب حکم شریعت دوسری گال آگے کی اور اس نے ادھر کے بھی دانت نکال دئیے کیونکہ دشمن کا طمانچہ کوئی پیاراکا طمانچہ تو نہ ہوگا وہ توتمام قوت سے طمانچہ مارے گا اور جب دونوطرف کے دانت نکل گئے تو پھر عدالت میں جا نے سے وہ دانت کیا واپس لگ جاویں گے؟ اگر مجرم کوسزا بھی ہو گی تواس کو کیا ملے گا ؟ جوساری عمر کے لیے ایک نعمت سے محروم ہوکرعمدہ کھانے پینے بولنے کی لذات سے جا تا رہا۔ ایسے ہی اگر ایک بدکا ر کسی عیسائی کی عورت پر نا جا ئزحملہ کرنا چاہے تووہ عیسائی اس وقت تواس کا مزاحم نہ ہو مگر بعد میں عدالت کے ذریعہ چارہ جوئی کرے اور گواہ اور ثبوت دیتا پھرے عجیب تعلیم ہے پھرذکر ہوا کہ بلا دیورپ اور امریکہ اور جرمن وغیرہ میں آج کل ایک عجیب تحریک پیداہوتی چلی جاتی ہے ۔لوگ خودبخود ہی ان خیالا ت فا سدہ سے دست کش ہو تے جا تے ہیں اور ان کی تجویز ہے کہ تثلیث اور کفا رہ کے لیے بے دلیل خیالات کو مہذب دُنیا سے اُڑا کر با دلیل اور آزادی پسند خیالا ت نوجوانوں کے آگے پیش کئے جا ویں ۔فر ما یاکہ :۔ توحید کے قیام کے آثار اب خدا چا ہتا ہے کہ اس کی توحید دنیا میں قائم ہواور اسی کا تصرف تما م دنیا پراور لوگوں کے دلوں پر رہے اور کوئی کا م نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ نہ چاہے ۔اس زما نہ میں ان تما م پرانی جہالت کے زما نہ کی غلطیوں کا اس طرح خودبخود ظاہر ہو جا نا یہ بھی ایک مسیح موعود کے زمانہ کی نشا نی ہے تا کہ زما نہ کی حالت بھی ایسی ہو کہ وہ مسیح موعود کی تائیدکرے جب خدا تعالیٰ کسی با ت کو چا ہتا ہے کہ وہ ہوجا وے تو وہ تمام زما نہ کو اس کی طرف پھیر دیتا ہے پھر ہر طرف سے اس کی تائید ہی تائیدظاہر ہوتی ہے کیا زمین کیا آسما ن گویا سب ہی اس کی خدمت میں لگ جا تے ہیں اگر زمین کسی اور طرف رجوع کرے اور آسما ن کسی اور طرف تو پھر حالت ٹھیک نہیں رہتی ۔اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ ہما ری تائید