اسی طرح سے غضب اگر موقعہ اورمحل پر استعمال کیا جا وے تووہ ایک صفت محمودہ ہے وہ انسا ن ہی کیا ہے جیسے مستورات کی عصمت کی محافظت کے لیے بھی غضب نہ پیدا ہوتا ہو ۔حضرت عمر ؓ میں غضب اور غصہ بہت تھا ۔مسلما ن ہو نے کے بعد کسی نے آپ سے پوچھا کہ اب وہ غضب اور غصہ کہا ں گیا ؟فر مایا کہ غضب تو اسی طرح میرے میں ہے لیکن آگے بے محل اور موقعہ اور ظلم کے رنگ میں تھا اور اب محل اور موقعہ پر استعمال ہو تا ہے اب انصاف کے رنگ میں ہے ۔ صفات بدلتے نہیں ہیں ہا ں ان میں اعتدال آجا تا ہے ا۔سی طرح گلہ کرنا نا جائزہے ۔لیکن استاد یا ما ں با پ اگر گلہ کریں تو وہ قابل مذمت نہیں کیو نکہ مرشد ،استا د یا با پ اگر گلہ کرتے ہیں تو وہ اس کی ترقی کے لیے گلہ کرتے ہیں اور اس کے عیوب کو اس لیے بیا ن کرتے ہیں تاکہ عبرت ہو اور اس کے اعمال میں اصلاح ہو ایسے ہی چوری بھی ایک بری صفت ہے لیکن اگر اپنے دوستوں کی چیز بلا اجا زت استعمال کر لی جا وے تو معیوب نہیں (بشرطیکہ دوست ہوں )۔ کما ل دوستی کا ایک واقعہ دوشخصوں میں باہمی دوستی کما ل درجہ کی تھی اور ایکدوسرے کا محسن تھا ۔اتفاقاََ ایک شخص سفر پر گیا دوسرا اس کیبعد اس کے گھر میں آیا اور اس کی کنیزسے دریا فت کیا کہ میرا دوست کہا ں ہے ؟ اس نے کہا کہ سفر کو گیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ اس کے روپیہ والے صندوق کی چابی تیرے پاس ہے ؟ کنیز نے کہاکہ میرے پا س ہے اس نے کنیز سے وہ صندوق منگواکرچا بی لی اور خود کھول کر کچھ روپیہ اس میں سے لے گیا جب صاحب خانہ سفرسے واپس آیا تو کنیز نے کہا کہ آپ کا دوست گھر میں آیا تھا ۔ یہ سن کر صاحب خانہ کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے پو چھا کہ کیا کہتا تھا ؟کنیز نے کہاکہ اس نے مجھ سے صندوق اور چابی منگواکرخود آپ کا روپیہ والا صندوق کھولا اور اس میں سے روپیہ نکال کرلے گیا ۔پھر تو وہ صاحب خانہ اس کنیز پر اس قدر خوش ہواکہ بہت ہی پھولا اور صرف اس صلہ میں کہ اس نے اس کے دوست کا کہا ما ن لیا اس کو نا راض نہیں کیا ۔اس کنیز کو اس نے آزاد کر دیا اور کہا کہ اس نیک کا م کے اجر میں جو کہ تجھ سے ہوا ہے میں َ آج ہی تجھ کوآزادکرتا ہوں ۔ غرض جس قدر یہ جرائم ہیں جن کی نواہی کی شریعت میں تا کید ہے مثلاگلہ نہ کر و ،چوری نہ کرو وغیرہ وغیرہ یہ سب صفا ت بداستعمال کی وجہ سے خرا ب ہو گئے ۔ورنہ حقیقتاََ ان کا موقعہ اور محل پر استعما ل درست اور انسا ن کی فطرت کے مطا بق ہے ۔عفوایک موقعہ پرتوقابل استعمال ہوتا ہے اور بعض موقعہ پرقابل ترک ۔کیو نکہ اگر کسی مجرم کو با ر با ر عفوہی کردیا جا وے تو وہ اور زیا دہ بیباک ہو کر جرم کریگا ۔ایسے موقعہ پر اس سے انتقام لینا ہی عفوہو تا ہے ۔ انجیل کی غیرمتوازن تعلیم انجیل کی تعلیم میں جو کہ بعض جگہ زیا دہ نرمی کی ہدایت ہے اس کا بھی یہی مقصود ہو گا کیونکہ وہ تو صرف یہود کے لیے ہے جوکہ سخت