۲۸ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
انسا ن اور بہائم میں فرق
بچپن کی عمر کا ذکر ہو ا فر ما یا کہ :۔
انسا ن کی فطرت میںیہ با ت ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے ۔بچوں میں عادت ہو تی ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں ۔آپس میں گا لی گلوچ ہو تے ہیں ۔ذرا ذراسی با توں پرلڑتے جھگڑتے ہیں جوں جوں عمر میں وہ ترقی کرتے جا تے ہیں عقل اور فہم میں بھی ترقی ہو تی جا تی ہے ۔رفتہ رفتہ انسا ن تزکئیہ نفس کی طرف آتا ہے ۔
انسا ن کی بچپن کی حالت اس با ت پر دلا لت کرتی ہے کہ گا ئے بیل وغیرہ جا نوروں ہی کی طرح انسا ن بھی پیدا ہوتا ہے ۔صرف انسا ن کی فطرت میں ایک نیک با ت یہ ہو تی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کرنیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسا ن میں ہی ہو تی ہے ۔کیو نکہ بہایم میں تعلیم کا مادہ نہیں ہو تا ۔سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ایک قصہ ِ نظم میں لکھا ہے کہ ایک گد ھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر شب وروز محنت کرتا ۔ایک حکیم نے اسے کہ اے بیوقوف تویہ کیا کرتا ہے ؟ اور کیوں اپنا وقت اور مغز بے فائدہ گنواتا ہے ؟ یعنی گدھا تو انسا ن نہ ہو گا تو بھی کہیں گدھا نہ بن جا وے ۔
درحقیقت انسا ن میں کو ئی ایسی الگ شئے نہیں ہے جو کہ اور جانوروں میں نہ ہو ۔عموماََ سب صفا ت درجہ وار تما م مخلوق میں پائے جا تے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ انسا ن اپنے اخلا ق میں ترقی کرتا ہے اور حیوان نہیں کرتا ۔
اخلا ق کی حقیقت
دیکھوازنڈکاتیل اور کھانڈکیسے غلیظ ہو تے ہیں ،لیکن جب خوف صاف کیا جاوے تو مصفیٰ ہو خوشمناہو جا تے ہیں ۔یہی حال اخلا ق اور صفات کا ہے ۔اصل میں صفا ت کل نیک ہو تے ہیں جب ان کو بے موقعہ اور نا جائز طور پر استعمال کیا جا وے تو وہ برے ہو جا تے ہیں اور ان کو گندہ کردیا جا تا ہے لیکن ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کرمحل اور موقعہ پر استعمال کیا جا وے تو ثواب کا موجب ہو جاتے ہیں ۔قرآن مجید میں ایک جگہ فر ما یا ہے
منشرحاسداذا حسد (الفلق :۶)
اور دوسری جگہ
السابقون الاولون
اب سبقت لے جا نا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اورکوئی آگے بڑھ جاوے یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جا تی ہے اگربچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنیوالے کی استعداد بڑھ جا تی ہے سابقوم گویا حاسد ہی ہو تے لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفیٰ ہو کرسابق ہو جا تا ہے اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جا ویں گے۔