معجزہ غر ض معجز ات وہی ہو تے ہیں جس کی نظیر لا نے پر دوسر ے عاجز ہوں ۔انسا ن کا یہ کا م نہیں کہ وہ ان کی حدبندی کرے کہ ایسا ہو نا چاہئیے یا ویسا ہو نا چاہئیے ۔اس میں ضرورہے کہ بعض پہلو اخفا کے ہو ں ۔کیونکہ نشانا ت کے ظاہر کرنے سے اللہ تعا لیٰ کی غرض یہ ہو تی ہے کہ ایما ن بڑھے اور اس میں ایک عرفا نی رنگ پیدا ہو جس میں ذوق ملا ہو ا ،لیکن جب ایسی کھلی بات ہو گی تو اس میں ایما نی رنگ ہی نہیںآسکتا چہ جا ئیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو ۔پس اقراحی نشا نا ت سے اس لیے منع کیا جا تا ہے اور روکا جا تا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوئادبی کی پیدا ہو جا تی ہے جو ایمان کی جڑکا ٹ ڈالتی ہے ۔ ( الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ صفحہ ۳مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ئ) نشا نا ت کس سے صادرہو تے ہیں اس سوال کا جواب حضرت حجتہ اللہ علیہ ا سلام نے ایک با ر اپنی ایک مختصر سی تقر یر میں دیا ہے ۔فر ما یا :۔ نشا نا ت کس سے صادرہو تے ہیں ؟ جس کے اعمال بجا ئے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جا ئیں مثلاََ ایک شخص خدا تعا لیٰ کے ساتھ وفا داری کرتا ہے وہ ایسی وفاداری کرے کہ اس کی وفا خارق عادت ہو جاوے ۔اس کی محبت اس کی عبا دت خارق عادت ہو ۔ہر شخص ایثا رکرسکتا ہے اور کرتا بھی ہے لیکن اس کا ایثار خارق عادت ہو غرض اس کے خلاف ،عبادت اور سب تعلقات جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے اپنے اندر ایک خارق عادت نمونہ پیدا کریں تو چونکہ خارق عادت کا جواب خار ق عادت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہا تھ پر نشا نا ت ظاہر کرنے لگتا ہے پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کا صدور ہو تو اس کو چاہئیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میںخا رق عادت نتا ئج کے جذب کی قوت پیدا ہو نے لگے ۔انبیا علیہم ا سلام میں یہی ایک نرالی با ت ہو تی ہے اور ان کا تعلق اندرونی اللہ تعا لیٰ کے ساتھ ایسا شدید ہو تا ہے کہ کسی دوسرے کا ہرگز نہیں ہو تا ۔ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھا تی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھا سکتی ۔پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کا کرتی ہے عبودیت کی مثال عورت کی سی ہو تی ہے کہ جیسے وہ حیا شرم کے ساتھ رہتی ہے اور مرد بیا ہنے جا تا ہے تو وہ اعلانیہ جا تا ہے اسی طرح پر عبوریت پردا اخفا میں ہوتی ہے لیکن الُو ہیّت جب اپنی تجلی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بین امر ہو جاتا ہے اور ان تعلقات کا جو ایک سچے مومن اور عبداور اس کے رب میں ہو تے ہیں خارق عادت نشا نا ت کے ذریعہ ظہور ہو تا ہے انبیا ء علیہم ا سلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کے تعلقا ت اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کل انبیاء علیہم ا سلام سے بڑھے ہو ئے تھے اس لیے آپ کے معجزات بھی سب سے بڑھے ہوئے ہیں ۔ ( الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ صفحہ۴مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ئ)