آیا ت مبین
میرے نزدیک ا ٓیا ت مبین وہ ہو تی ہیں مخا لف جن کے مقابلہ سے عاجز ہو جا وے خواہ وہ کچھ ہی ہو جس کا مخالف مقابلہ نہ کرسکے وہ اعجا ز ٹھہر جا ئے گا جب کہ اس کی تحد ی کی گئی ہو ۔
یا د رکھنا چاہئیے کہ اقراح کے نشانوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے نبی کبھی جرات کرکے یہ نہیں کہیگا کہ تم جو نشان مجھ سے مانگو میںَ وہی دکھا نے کو تیا ر ہو ں ۔اس کے منہ سے جو نکلے گا یہی نکلے گا
انما الایا ت عند اللہ ۔(الانعام :۱۱۰)
اور یہی اس کی صداقت کا نشان ہو تا ہے کم نصیب مخالف اس قسم کی آیتوں سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ معجزات سے انکار کیا گیا ہے مگر وہ آنکھوں کے اندھیہیں ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہو تی اس لیے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں اور نہ ذات با ری کی عزت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہو تا ہے ہما را خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں وہی کردے۔یہ سوء ادب ہے ۔ایسا خدا خدا ہی نہیں ہو سکتا ۔ہاں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امیداور حوصلہ دلا یا کہ
ادعونی استجب لکم (المومن :۶۱)
یہ نہیں کہا کہ تم جو مانگوگے وہی دیا جا یئگا ۔آنحضر ت ﷺ سے جب بعض اقتراحی نشانات مانگے گئے تو آپ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا ۔
قل سجان دبی ھل کنت الا بشرارسولا۔(بنی اسرائیل :۹۴)
خدا کے رسو ل کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آداب الہیٰ کو مدنظر رکھتے ہیں یہ با تیں منحصر ہیں ۔معرفت پر ۔جس قدر معرفت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل پر مستولی ہو تی ہے اور سب سے بڑھ کر معرفت انبیا ء علیم اسلا م ہی کی ہو تی ہے ۔اس لیے ان کی ہر با ت اور ہرادا میں بشریت کا رنگ جدا نظر آتا ہے اور تا ئیدات الہیہٰ الگ نظرآتی ہیں ۔
ہما را ایما ن ہے کہ خدا تعا لیٰ نشان دکھا تا ہے ،جب چاہتا ہے وہ دنیا کو قیامت بنانا نہیں چاہتا ۔اگر وہ ایسا کھلا ہوا ہوکہ جیسے سورج تو پھر ایما ن کیا رہا ؟ اور اس کا ثواب کیا؟ ایسی صورت میں کون بدبخت ہو گا جو انکار کریگا ؟ نشا ن بین ہو تے ہیں مگر ان کو با ریک بین دیکھ سکتے ہیں اور کو ئی نہیں اور یہ وقت نظر اور معرفت سعادت کہ وجہ سے عطا ہو تی ہے اور تقویٰ سے ملتی ہے شکی اور فاسق اس کو نہیں دیکھ سکتا ۔ایما ن اس وقت تک ایما ن ہیجب تک اس میں کوئی پہلووں اخفا ء کا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ بر انداز ہو تو وہ ایمان نہیں رہتا اگر مٹھی بند ہو اور کوئی بتاد ے کہ اس میں یہ ہے تو اس کی فراست قابل تعریف ہو سکتی ہے لیکن جب مٹھی کھول کر دکھا دی اورپھر کسی نے کہا کہ میں َ بتا دیتا ہو ں تو کیا ہو ا ؟ یا پہلی رات کا چاند اگر کوئی دیکھ کربتا ئے تو البتہ اسے تیز نظر کہیں گے ۔لیکن جب چودھویں کا چاند ہو گیا اس وقت کوئی کہے کہ میں َ نے چا ند دیکھ لیا وہ چڑھا ہو ا ہے تو لو گ اس کو پا گل کہیں گے ۔