کے سا تھ سچا پیوست ہو جا نے سے دور ہو جا تی ہے اور پھر لسبط کی حالت دائمی ہو جا تی ہے عارفوں کو قبض کی حا لت بہت کم ہو تی ہے نا دان انسا ن سمجھتا ہے کہ دنیا بہت دیر رہنے کی جگہ ہے میں َ پھر نیکی کرلوں گا ۔اس واسطے غلطی کرتا ہے اور عا رف سمجھتا ہے کہ آج کا دن جو ہے یہ غنیمت ہے خدا معلوم کل زندگی ہے کہ نہیں ۔ ایک رویا مَیںاس مکا ن کی طر ف سے مسجد کی طرف چلا جا رہا ہو ں ۔مَیں نے ایک شخص کو آتے ہو ئے دیکھا جو کہ ایک سکھ کی طرح معلوم ہو تا تھا جس طرح سے اکا لئے اور کو کہ سکھ ہو تے ہیں اس کے ہا تھ میں ایک تیز خوفنا ک بڑا اور چوڑا چھراتھا اور اس چھرے کا دستہ چھوٹا سا تھا وہ چھرا بڑاہی تیز معلوم ہو تا ہے اور ایسا معلوم ہو تا تھا گویا وہ لو گوں کو قتل کرتا پھرتا تھا ۔جہاں اس نے چھرا رکھا اور گردن اڑگئی ۔کچھ اس طرح معلوم ہو تا تھاجس طرح میں َ نے لیکھرام کے وقت میں ایک آدمی خواب میں دیکھا تھا اس کی صورت بڑی ڈراونی تھی اور بڑاہی دہشتنا ک آدمی معلوم ہو تا تھا ۔مجھے بھی اس سے خوف معلوم ہوا ۔اور میں َ نے اس کی طرف جا نا نہ چا ہا لیکن میرے پاوں بہت بوجھل ہو گئے اور مَیں بڑا ہی زورلگاکر ادھر سے نکلا ،لیکن اس نے میری مزاحمت نہ کی اور اگر چہ مجھ کواس سے خوف معلوم ہو الیکن اس نے مجھ کو کو ئی تکلیف نہ دی اور پھر وہ خبر نہیں کہ کس طرف کو نکل گیا ۔ ایک اور رویا ایک حنا ئی رنگ کا لکھا ہو ادوورقہ کا غذ کچھ تھوڑے فا صلہ پر گرپڑاہے مَیں نے ایک ہند وکو کہا کہ اس اس کو پکڑو ۔جب وہ پکڑنے لگا تو وہ کچھ دور آگے جا پڑا ۔پھر وہ ہندو اٹھا نے لگا تو وہ وہاں سے اڑکر اور آگے جاپڑالیکن وہ دور ورقہ اس طرح کچھ ترتیب سے کھل کر اڑتا رہا ہے کہ اس طرح معلوم ہو تا ہے کہ گویا وہ کو ئی جا ندار چیز ہے جب وہ کچھ فاصلہ تک چلا گیا تووہ ہند و وہاں جاکر پھر اس کو پکڑنے لگا تب وہ دوورقہ اڑکرمیرے پا س آگیا تو اس وقت میری زبا ن سے یہ کلمہ نکلا جس کا تھا اس کے پا س آگیا ۔پھر میَںنے اس کو مخا طب ہو کر کہا کہ ہم وہ قوم ہیں جو روح القد س کے بلا ئے بولتے ہیں ہم وہ قوم ہیں جن کے حق میں خدا نے فر ما یا ہے ۔ لننخنا فیھم من صدقنا اسلا می خدا ما ت کسی دوسرے سے خدا تعا لیٰ لینا ہی نہیں چاہتا ۔شاید دوسرا اس میں کچھ غلطی بھی کرے ۔واللہ اعلم ۔ جو شخص اسلا م کے عقائد کا منا فی ہے وہ اسلا م کی تائید کیا کرے گا ۔ سناتن دھرم میں اس طرح کے بھی آدمی ہو تے ہیں کہ وہ کسی فرقہ کے مکذب نہیں ہو تے اور معمولی چیزوں کے آگے بھی ہا تھ جوڑتے پھرتے ہیں ۔ خدا نہیں چاہتا کہ جو سلسلہ اس نے اپنے ہا تھ سے لگا یا ہے اس کا کو ئی شریک ہو یہا ں سے تویہی معلوم ہوتا ہے کہ ہما را کا غذ ہما رے پاس آگیا ۔ (البدر جلددونمبر۱۱ صفحہ۸۵ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ؁)