۲۶ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
بوقت سیر
رفع یدَین
رفع یدَین کے متعلق فر ما یا کہ :۔
اس میںچنداں حرج نہیں معلوم ہو تا ،خواہ کوئی کرے یا نہ کرے احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوطرح پرہے اور وہا بیوں اور سنیوں کے طریق عمل سے بھی یہی نیتجہ نکلتا ہے کیونکہ ایک تو رفع یدَین کرتے ہیں اور ایک نہیں کرتے ۔معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی وقت رفع یدَین کیا اور بعدازاں ترک کردیا
وتر
فر ما یا کہ :۔
اکیلا ایک وتر کہیں سے ثابت نہیں ہو تا ۔وتر ہمیشہ تین ہی پڑھنے چا ہئیں ۔خواہ تینوں اکٹھے ہی پڑھ لیں خواہ دورکعت پڑھ کرسلام پھیر لیں پھر ایک رکعت الگ پڑھی جاوے ۔
قبض ولسبط
با بونبی بخش صاحب احمدی کلرک لا ہو ر نے عرض کی کہ بعض وقت تودل میں خودبخود ایک ایسی تحریک پیداہو تی ہے کہ طبیعت عبادت کی طرف راغب ہو تی ہے اور قلب میں ایک عجیب فرحت اور سرورمحسوس ہو تا ہے اور بعض وقت یہ حالت ہو تی ہے کہ نفس پر جبر اور بوجھ ڈالنے سے بھی حلا وت پیدا نہیں ہو تی اور عبادت ایک بارگراں معلوم ہو تی ہے حضرت اقدس نے فرما یا کہ :۔
اسے قبض اور لسبط کہتے ہیں قبض اس حالت کا نام ہے جب کہ ایک غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جا تا ہے اور خدا کی طرف محبت کم ہو تی ہے اور طرح طرح کے فکر اور رنج اور غم اور اسبا ب دنیوی میں مشغول ہو جا تا ہے اور بسط اس کا نا م ہے کہ انسا ن دنیا سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور موت کو ہر وقت یاد رکھے ۔جب تک اس کو اپنی موت بخوبی یا دنہیں ہو تی وہ اس حالت تک نہیں پہنچ سکتا ۔موت تو ہروقت قریب آتی جا تی ہے کو ئی آدمی ایسا نہیں جس کے قریبی رشتی دار فوت نہیں ہو چکے اور آجکل تو وبا سے گھر کے گھر صاف ہو تے جا تے ہیں اور موت کے لیے طبیعت پر زور دیکر سوچنے کی حاجت ہی نہیں رہی ۔
یہ حالتیں قبض اورلسبط کی اس شخص کو پیدا ہو تی ہیں جس کو موت یاد نہیں ہو تی ۔کیو نہ تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ انسا ن قبض کی حالت میں ہو تا ہے اور ایک نا گہانی حادثہ پیش آجا نے سے وہ حالت قبض معاََ دور ہو جا تی ہے جیسے کو ئی زلزلہ آجا وے یا موت کا حادثہ ہو جا وے تو ساتھ ہی اس کا انشراح ہو جا تا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ قبض اصل میں ایک عارضی شئے ہے۔ جو کہ موت کو بہت یاد کرنے اور اللہ تعا لیٰ