پر ٹھہر نہ سکتا ۔مگراب تو معاملہ اس کے برخلا ف نظر آتا ہے ۔خدا تعا لیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زما نہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہو سکے گا ۔ بلکہ ان کے واسطے آسما نی طا قت کا م کری گی جس کا ذریعہ دعا ہے ۔غرضکہ ہم نے اس لیے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے ساٹھ یا پینسٹھ سا ل عمر سے گذرچکے ہیں ۔موت کا وقت مقرر نہیں ۔خدا جا نے کسوقت آجا وے اور کا م ہما را ابھی بہت باقی پڑا ہے ادھر قلم کی طا قت کمزورثابت ہوئی ہے رہی سیف اس کے واسطے خدا تعا لیٰ کا اذن اور منشاء نہیں ہے لہٰذاہم نے آسما ن کیطرف ہا تھ اٹھا ئے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنا یا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا کو امن اور سلامتی اور اعداء پربذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا ۔
ہم نے دیکھا کہ اب ان مسلما نوں کی حالت تو خود موردعذاب اور شامتِ اعما ل سے قہر الہیٰ کے نزول کی محرک بنی ہو ئی ہے اور خدا کی نصرت اور اس کے فضل وکرم کی جا ذب مطلق نہیں رہی ۔جب تک یہ خود نہ سنوریں تب تک خوشحا لی کا منہ نہیں دیکھ سکتے ۔اعلاء کلمتہ اللہ کا ان کو فکر نہیں ہے خدا کے دین کے واسطے ذرا بھی سرگرمی نہیں۔اس لیے خدا کے آگے دست دعا پھیلانے کا قصد کرلیا ہے کہ وہ اس قوم کی اصلا ح کرے اور شیطان کو ہلا ک کرے تا کہ خدا کا سچا نور دنیا پردوبارہ چمک جاوے اور راستی کی عظمت پھیلے ۔
بنی اسرائیل کی کتا بوں سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ جب وہ قوم فسق وفجور میں تبا ہ ہو جاتی اور اس کی توحیدوجلال کو با لکل بھول جاتی تھی تو ان کے انبیا ء اسی طرح جنگلوں اور الگ مکانوں میں دست بدعا ہوتے تھے اور خدا کی رحمت کے تخت کو جنبشں دیا کرتے تھے ۔
دنیا کو علم نہیں ہے کہ آجکل عیسائی کیا کررہے ہیں مسلمانوں کی کس قدرذریت کو انہوں نے بربا د کیا ہے کسقدرخاندان انکے ہا تھوں نالاں ہیں گویا دنیا کا تختہ بالکل پلٹ گیا ہے اب خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس کی توحیداور جلال کی ہتک ہواور اس کے رسول کی زیا دہ بے عزتی کی جا وے ۔اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اپنے نورکو اب روشن کرے اور سچائی اور حق کا غلبہ ہو سواس نے مجھے بھیجااور اب میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ میں َ ایک حجرہ بیت الدعا صرف دعا کے واسطے مقررکروں اور بذریعہ دعا کے اس فساد پرغالب آؤںتا کہ اول آخر سے مطابق ہو جا وے اور جس طرح سے پہلے آدم کو دعا ہی کے ذریعہ سے شیطان پر فتح نصیب ہو ئی تھی اب آخری آدم کے مقابل پر آخری شیطان پر بھی بذریعہ دعا کے فتح ہو۔
(البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ۸۴، ۸۵ مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)