ہے اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ فتح ہو گی ۔ ۱؎ ( الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ صفحہ ۷۔۸ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ئ) ۲۵ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل ازعشاء ہما را سب سے بڑا کا م کسر صلیب ہے حضرت اقدس نے جو حجر ہ دعائیہ بنا یا ہے اس کی نسبت فر ما یا کہ :۔ ہما را سب سے بڑا کا م کسر صلیب ہے ۔اگر یہ کا م ہو جاوے تو ہزاروں شہبات اور اعترا ضات کا جواب خودبخود ہی ہو جا تا ہے اور اسی کے ادھوررہنے سے سنیکڑوں ا عترا ضات ہم پروار ہو سکتے ہیں ۔دیکھاگیا ہے کہ چالیس یا پچاس کتا بیں لکھی ہیں مگران سے ابھی وہ کا م نہیں نکلا جس کے لیے ہم آئے ہیں اصل میں ان لوگوں نے جس طرح قدم جمائے اور اپنا دام فریب پھیلا یا ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی انسا نی طاقت سے درہم برہم ہو سکے ۔دانا آدمی جا نتا ہے کہ اس قوم کا تختہ کس طرح پلٹا جا سکتا ہے ۔یہ کا م بجز خدائی ہا تھ کے انجام پذیر ہو تا نظر نہیں آتا اسی واسطے ہم نے ان ہتھیا روں یعنی قلم کو چھوڑکردعا کے واسطے یہ مکا ن (حجرہ) بنویا ہے کیونکہ دعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اور اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فر ما یا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ کا یہ فر ما نا کہ من کل حدب ینسلون ۔(الانبیاء :۹۷) اس امر کے اظہار کے واسطے کا فی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیرپا کریں گے ورنہ اس کے سوااور کیا معنے ہیں ؟کیا یہ قومیں ریواروں اور ٹیلوں کو دتی پھا ندتی پھریں گی ؟ نہیں اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریا ستوں اور سلطنتو ں کو زیرپا کرلیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔ فتح دعا کے ذریعہ ہو گی واقعات جس امر کی تفسیر کریں وہی تفسیر ٹھیک ہوا کرتی ہے اس آیت کے معنے خدا تعالیٰ نے واقعات سے بتا دئے ہیں انکے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضر ورت ہو تی تو اب جیسے بظاہر اسلامی دنیا کی امیدوں کے آخری دن ہیں چاہئیے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑ ھی ہو ئی ہو تی اور اسلامی سلتنطیںتمام دنیا پر غلبہ پاتیںاور کوئی ان کے مقابل