ہے پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گذارش کرنے کو جواب دیتا ہے نمازی کا یہی حال ہے خدا کے آگے سر بسجودرہتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے ۔پر آخر سچی اور حقیقی نما ز کا یہ نتیجہ ہو تا ہے کہ ایک وقت جلد آجا تا ہے کہ خدا تعا لیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دیکر تسلی دیتا ہے ۔بھلا یہ بجنر حقیقی نما ز کے ممکن ہے؟ ہرگز نہیں ۔اور پھر جن کا خدا ہی ا یسا نہیں وہ بھی کئے گذرے ہیں ان کا کیا دین اور کیا ایما ن ہے ۔وہ کس امید پراپنے اوقات ضائع کرتے ہیں ۔
اسلام کے عروج وزوال کے حقیقی اسباب
ہمارے زمانہ میں جو سوال پیش ہو ا کہ کیا وجوہا ت ہیں جن سے اسلا م کو زوال آیا اور پھر وہ کیا ذریعے ہیں جن سے اس کی ترقی کی راہ نکل سکتی ہے اس کے مختلف قسم کو لوگوں نے اپنے اپنے خیا ل کے مطا بق جو اب دئے ہیں مگر سچا جو ا ب یہی ہے کہ قرآن کو تر ک کرنے سے تنزل آیا اور اسی کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے سے ہی اسی حا لت سنور جا وے گی ۔موجود ہ زما نہ میں جو ان کو اپنے خونی مہدی اور مسیح کی آمد کی امید اور شوق ہے کہ وہ آتے ہی ان کو سلطنت لے دیگا اور کفا رتبا ہ ہو ں گے ۔یہ ان کے خا م خیال اور وسوسے ہیں ۔ہما را اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتدا ء میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا اسی طرح اب آخری زما نہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا نہ تلوار سے ۔ہرایک امر کے لیے کچھ آثا رہو تے ہیں اور اس سے پہلے تمہید یں ہو تی ہیں ہو نہا ربروا کے چکنے چکنے پا ت بھلا اگر ان کے خیا ل کے موافق یہ زما نہ ان کے دن پلٹنے کا ہی تھا اور مسیح نے آ کے ان کو سلطنت دلا نی تھی تو چاہئیے تھا کہ ظاہر ی طا قت ان میں جمع ہو نے لگتی ۔ہتھیا ر ان کے پا س زیا دہ رہتے ۔فتوحا ت کا سلسلہ ان کے واسطے کھولا جا تا ۔مگر یہا ں تو بالکل ہی برعکس نظر آتا ہے ہتھیا ر ان کے ایجا دنہیں ۔ملک ودولت ہے تو اور روں کے ہا تھ ہے ۔ہمت ومردانگی ہے تواورروں میں ۔یہ ہیھیا روں کے واسطے بھی دوسروں کے محتاج ۔دن بدن ذلت اور ادباران کے گرد ہے جہاں دیکھو ۔جس میدان میں سنوانہیں کوشکست ہے ۔بھلا کیا یہی آثا ر ہو اکرتے ہیںاقبال کے ؟ ہرگز نہیں یہ بھولے ہو ئے ہیں زمینی تلواراور ہتھیاروں سے ہرگز کا میاب نہیں ہو سکتے ۔ابھی تو ان کی خود اپنی حالت ایسی ہے اور بیدینی اور لا مذہبی کا رنگ ایسا آیاہے کہ قابل عذاب اور مورد قہر ہیں ۔پھر ایسوں کو کبھی تلوار ملی ہے ؟ ہرگزنہیں ۔انکی ترقی کہ وہی سچی راہ ہے کہ اپنے آپ کو قر آن کی تعلیم کے مطابق بناویں اور دعا میں لگ جاویں ان کو اب اگر مدد آ و ے گی تو آسما نی تلوار سے اور آسمانی حربہ سے نہ اپنی کوششوں سے اور دعا ہی سے ان فتح ہے نہ قوت بازو سے یہ اس لیے ہے کہ جس طرح ابتدا تھی انہتا بھی اسی طرح ہو ۔آدم اول کو فتح دعاہی سے ہو ئی تھی
ربنا ظلمنا الفسنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ (الاعراف :۲۴)
اور آدم ثانی کو بھی جو آخری زما نہ میں شیطان سے آخری جنگ