توفیق دے کہ ہم تیرے ہو جائیں۔ اور تیری ر ضاپر کار بند ہو کر تجھے راضی کرلیں ۔خدا تعالیٰ کی محبت اسی کا خوف ،اسی کی یادمیں دل لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے ۔
پھر جو شخص نما ز ہی سے فراغت حا صل کر نی چا ہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا ؟وہی کھا نا پینا اور حیوانوں کی طرح سورہنا ۔یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفا ر ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے چنا نچہ قرآن شریف میں ہے
اذکر ونی اذکر کم واشکر االی ولا تکفر ون (سورت البقر :۱۵۳)
یعنی اے میرے بندوتم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصرف رہا کرو میں َ بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہا را خیا ل رکھوں اور میرا شکر کیا کرو اور میرے انعامات کی قدرکیا کرو اور کفر نہ کیا کرو ۔اس آیت سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ ذکر الہیٰ کے ترک اور اس سے غفلت کا نا م کفر ہے پس جو دم ٖغافل وہ دم کا فر والی با ت صاف ہے یہ پا نچ وقت تو خدا تعا لیٰ نے بطور کے مقر ر فر ما ئے ہیں ۔ورنہ خدا کی یاد میں تو ہروقت دل کو لگا رہنا چاہئیے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہو نا چاہئیے ۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہروقت اسی کی یا د میں غرق ہو نا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسا ن اس سے انسان کہلا نے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعا لیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسہ کا حق رکھ سکتا ہے۔
نما ز خدا تعا لیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہیَ
اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسا ن نے کسی خاص منزل پرپہنچا ہے تواس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہو گی اتنا ہی زیادہ تیزی کو شش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہو گا ۔ سوخدا تعا لیٰ تک پہنچا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دوری بھی لمبی ۔پس جو شخص خدا تعا لیٰ سے ملنا چا ہتا ہے اور اس کے دربا ر میںپہنچے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نما ز ایک گا ڑی ہے جس پر سوار ہوکر وہ جلدتر پہنچ سکتا ہے جس نے نما ز ترک کردی وہ کیا پہنچے گا ۔
اصل میں مسلمانوں نے جب سے نما ز کو ترک کیا یا ہے اسے دل کی تسکین آرام اورمحبت سے اس کی حقیقت سے غا فل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔ وہ زما نہ جس میں نما زیں سنوارکرپڑھی جا تی تھیں غورسے دیکھ لوکہ اسلام کے واسطے کیسا تھا ۔ایک دفعہ تواسلام نے تما م دنیا کو زیرپا کردیا تھا جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں ۔درددل سے پڑھی ہو ئی نمازہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کا نکال لیتی ہے ۔ہما را با رہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جا تی ہے ابھی نما ز میں ہی ہو تے ہیں کہ خدانے اس امر کو حل اور آسان کردیا ہواہوتا ہے ۔
نما ز میں کیا ہو تا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے ۔التجا کے ہا تھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی غرض کو اچھی طرح سنتا