مذہب کی جڑخدا شناسی ہے اور اس سے کمتر روجہ یہ کہ باہمی تعلق پاکیزگی کے ہوں سویہ دونوباتیں گری ہوئی ہیں (البدر جلد۲ نمبر۱۲ صفحہ۸۴، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ؁) دربار شام اسبا ب پربھروسہ نہ کریں طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ:۔ اصل میں لوگ اس کے حقیقی علا ج کی طرف سے تو بالکل غافل ہیں اور اور طرف ہا تھ پاوں مارتے پھرتے ہیں مگر جب تک وہ اس کے اصل علاج کی طرف رجوع نہ کریں گے تب تک نجا ت کہا ؟ کو ئی طبیبوں یا ڈاکٹروں کی طرف بھاگتا ہے اور کوئی ٹیکہ کے واسطے با زوپھیلا تا ہے کو ئی نئے تجربہ اور نئی ایجا د کے درپے ہے ۔ ہماری شریعت نے آگرچہ اسباب سے منع نہیں کیا بلکہ فیہ شفاء للناس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوائوں میں خدا تعالیٰ نے خواص شفاء مرض بھی رکھے ہوئے ہیں اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ دوائوں میں تاثیر ات ہوتی ہیں اور امراض کے معالجات ہوا کرتے ہیں مگر ان اسباب پر بھروسہ کر لینا اور یہ گمان کرلیناکہ انہیں کے ذریعہ سے نجات اور کامیابی ہو جائوے گی یہ سخت شرک اور کفر ہے۔بھروسہ اسباب پر ہرگزنہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ اسباب کو مہیا کرکے پھر بھروسہ خداتعالیٰ پر کرنا چاہیے اور اگر وہ چاہے تو اِن اسباب کو مفید بنادے اور اسی سے پھر بھی دُعا کرنی چاہیے کیونکہ اس پر نتائج مرتب کرنا تواُسی کا کام ہے اور یہی توکل ہے ۔ نماز کی اہمیت اور حقیقت ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے ۔فرمایا ؛ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے ۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺکے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف کر دی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں ۔مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز تو ہے ہی کیا ؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں ۔نماز کیا ہے؟یہی کہ اپنے عجزو نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا ۔کبھی اس کی عظمت اوراسکے احکام کی بجاآوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں ِگرجانا اس سے اپنی حا جات کا مانگنا ،یہی نماز ہے ۔ ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کرکے اس کی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا ،پس جس د ین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے ۔انسان ہر وقت محتاج ہے اس سے اس کی رضا کی راہ مانگتا ے اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگارہو کیونکہ اسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جا سکتا ہے ۔اے خدا ہم کو