بندوں کی حالت تو اس نقطہ تک پہنچی ہو ئی ہوتی ہے ۔نیک بھی چاہیتے ہیں کہ ہماری نیکی پوشید ہ رہے اور بد بھی اپنی بدی کو پوشیدہ رکھنے کی دعا کرتا ہے مگر اس امرمیں دونونیک وبد کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو قانون بنا رکھا ہے کہ واللہ مخرج ماکنتم تکتمون ۔(البقرہ :۷۳) خدا تعا لیٰ کی رضا میں فانی لوگ نہیں چاہتے کہ ان کو کوئی درجہ اور امامت دی جاوے وہ ان درجات کی نسبت گوشہ نشینی اور تنہاعبادت کے مزے لینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں مگران کوخداتعالیٰ کشاں کشاں خلق کی بہتری کے لیے ظاہر کرتا اور معبوث فر ما تا ہے ۔ہما رے نبی کریم ﷺ بھی تو غارمیں ہی رہا کرتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کسی کو پتہ بھی ہو آخر خداتعالیٰ نے ان کو باہر نکا لا اور دنیا کی ہدایت کا بار ان کے سپردکیا ۔ آنحضرت ﷺ کے پاس ہزاروں شاعر آتے اور آپ کی تعریف میں شعر کہتے تھے مگر لعنتی ہے وہ دل جو خیال کرتا ہے کہ آنحضر ت ﷺ ان کی تعریفوں سے پھولتے تھے وہ ان کو مردہ کیڑے کی طر ح خیال کرتے تھے مدح وہی ہوتی ہے جوخدا آسمان سے کرے ۔یہ لوگ محبت ذاتی میں غرق ہوتے ہیں ان کو دنیا کی مدح و ثنا کی پروانہیں ہو تی۔ تو یہ مقام ایسا ہو تا ہے کہ خداتعالیٰ آسمان اور عرش سے ان کی تعریف اور مدح کرتا ہے ۔ توفیق سب اللہ تعالیٰ کو ہی ہے َ سنو ہما ری یہ با تیں اس واسطے نہیں کہ ہم کسی کے ایما ن کو کچھ بڑھا سکتے ہیں یا کسی کے دل میں کچھ ڈال سکتے ہیں نہیں ہم کسی کے ایما ن کو ایک جو بھر بھی زیا دہ نہیں کرسکتے ۔ ۱؎ ہم صرف اس واسطے کہتے ہیں کہ اتنے جمع ہو شاید ہے کہ کسی دل کو کوئی با ت پکڑلے اور اس کی اصلا ح ہو جاوے ۔توفیق سب اللہ تعالیٰ کو ہی ہے َ خداتعالیٰ قادر ہے کہ کسی کے دل میں ایما ن کی حقیقی جڑلگا دے اور پھر اسے اس کے ثمرات کھلا وے یا کسی کو اس کی بدی کی وجہ سے قہر کی آگ سے ہلا ک کرے پس دعا ہی کرنی چاہئیے تا اس کی توفیق شامل انسا ن ہو ۔ (الحکم جلد نمبر ۱۲ صفحہ ۴تا ۷ مورخہ ۳۱ ؍مارچ ۱۹۰۳؁ئ) ۲۴؍مارچ ۱۹۰۳؁ء سیر میں آریہ مذہب کی نسبت فر ما یا کہ