ما ں باپ سے بھی زیادہ مہربا ن ہے مگر وہ دغاباز کو بھی خوب جا نتا ہے ۔
قبو لیت آسمان سے ہی نا زل ہو تی ہے َ
تذکرۃالاولیاء میں ہے کہ ایک شخص چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کی نظر میں بڑاقابل اعتماد بنے اورلوگ اسے نمازی اور روزہ دار اور بڑاپاکباز کہیں اور اسی نیت سے وہ نما ز لوگوں کے سامنے پڑھتا اور نیکی کے کا م کرتا تھا وہ جس گلی میں جاتا اور جدھراس جا گذرہوتا تھا ۔لوگ اسے کہتے تھے کہ یہ دیکھویہ شخص بڑا ریا کار ہے اور اپنے آپ کو لوگوں میں نیک مشہور کرنا چا ہتا ہے ۔پھر آخر کا راس کے دل میں ایک دن خیال آیا کہ میں کیوں اپنی عاقیت کو بربا د کرتا ہوں خدا جا نے کس دن مرجا وں گا کیوں اس لعنت کو اپنے لیے تیا ر کررہا ہوں ۲؎ ا س نے صاف دل ہوکر پورے صدق وصفااور سچے دل سے توبہ کی اور اس وقت سے نیت کرلی کہ میں َ سارے نیک اعمال لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کیا کروں گا اور کبھی کسی کے سامنے نہ کروں گا ۔چنانچہ اس نے ایسا کرنا شروع کردیا اور یہ پاک تبدیلی اسکے دل میں بھرگئی ۔نہ صرف زبان تک ہی محدودرہی ۔پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بظاہر ایسا بنا لیا کہ تا رک صوم وصلوت ہے اور گندہ اور خراب آدمی ہے مگر اندرونی طور پر پویشدہ اور نیک اعمال بجا لا تا تھا ۔پھر وہ جدھر جا تا اور جدھر اس کا گزرہوتا تھا لوگ اور لڑکے اسے کہتے تھے کہ دیکھویہ شخص بڑانیک اور پارسا ہے ۔یہ خدا کا پیارا اور اسکا برگزیدہ ہے ۔
غرض اس سے یہ ہے کہ قبولیت اصل میں آسمان سے نا زل ہو تی ہے اولیاء اور نیک لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو پویشدہ رکھا کرتے ہیں وہ اپنے صدق وصفا کو دوسروں پر ظاہر کر نا عیب جا نتے ہیں ۔ہا ں بعض ضروری ا مور کو جن کی اجا زت شریعت نے دی ہے یا دوسر وں کو تعلیم کے لیے اظہار بھی کیا کرتے ہیں ۔
ریا ء
نیکی جو صرف دکھانے کی غرض سے کی جاتی ہے وہ ایک لعنت ہوتی ہے ۔خدا تعا لیٰ کے وجودکے ساتھ دوسروں کاوجود با لکل ہیچ جا نناچا ہئیے دوسروں کے وجود کو ایک مردہ کیڑا کی طرح خیال کرنا چاہئیے کیونکہ وہ کچھ کسی کا بگا ڑنہیں سکتے اور نہ سنوار سکتے ہیں ۔نیکی کو نیک لوگ اگر ہزارپردوں کے اندر بھی کریں تو خدا تعالیٰ نے قسم کھا ئی ہوئی ہے کہ اسے ظاہر کردیگا اور اسی طرح بدی کا حال ہے بلکہ لکھا ہے کہ اگر کوئی عابد زاہذخداتعالیٰ کی عبادت میں مشغو ل ہو اور اس صدق اور جوش کا جواس کے دل میں ہے انتہا کے نقطہ تک اظہار کر رہا ہو اور اتفاقاََ کنڈی لگا نا بھول گیا ہو تو کوئی اجنبی باہر سے آکراس کا دروازہ کھو ل دے تواس کی حا لت بالکل وہی ہو تی ہے جو ایک زانی کی عین زنا کے وقت پکڑاجانے سے کیونکہ اصل غرض تو دونوںکی ایک ہی ہے یعنی اخفا ئے راز اگرچہ رنگ الگ الگ ہیں ایک نیکی کو اور دوسرابدی کو پویشد ہ رکھنا چاہتا ہے غرض خدا کے