بھی کو شش کریں سچ ہے کہ جو خدا کاہوجاتا ہے خدا اس کاہوجاتا ہے۔
یادرکھو ایسا نہ ہو کہ تم اپنے اعمال سے ساری جما عت کو بدنا م کرو ۔شیخ سعدی صاحب فر ما تے ہیں :۔
بد نا م کنندہ نکونا مے چند
بلکہ ایسے بنوکہ تاتم پرخدا تعا لیٰ کی برکات اور اس کی رحمت کے آثارنازل ہوں ۔وہ عمروں کو بڑھابھی سکتا ہے مگر ایک وہ شخص جس کا عمر پانے سے مقصد صرف ورلی دُنیا ہی کے لذائذاور حظوظ ہیں اس کی عمر کیا فا ئدہ بخش ہو سکتی ہے ؟ اس میںتو خدا کا حصہ کچھ بھی نہیں ۔وہ اپنی عمر کا مقصد صرف عمدہ کھا نے کھا نے اور نیندبھر کے سونے اور بیوی بچوں اور عمدہ مکان کے یا گھوڑے وغیر ہ رکھنے یا عمدہ با غات یا فصل پر ہی ختم کرتا ہے ۔وہ تو صرف اپنے پیٹ کا بندہ اور شکم کا عابد ہے۔ اس نے تو اپنا مقصد ومطلوب اور معبود صرف خواہشات نفسانی اور لذائذ حیونی ہی کو بنا یا ہوا ہے ۔مگر خدا تعالیٰ نے انسا ن کے سلسلہ پیدائش کی علت غائی صرف اپنی
عبا دت رکھی ہے
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ّ(الذاریات :۵۷)
پس حصر کردیا ہے ۔کہ صرف صرف عبا دت الہی ٰمقصد ہونا چا ہئیے اور صرف اسی کے لیے یہ سارا کارخا نہ بنا یا گیا ہے برخلا ف اس کے اور ہی اور ارادے اور ہی اور خواہشات ہیں ۔
بھلا سوچوتو سہی کہ ایک شخص کو بھیجتا ہے کہ میرے با غ کی حفا ظت کر۔اس کی آب پا شی اور شاخ تراشی سے اسے عمدہ طور کا بنا اور عمدہ عمدہ پھول بیل بوٹے لگا ۔کہ وہ ہرابھرا ہوجاوے ۔شاداب اور سرسبز ہو جاوے مگر بجا ئے اس کے وہ شخص آتے ہی جتنے عمدہ عمدہ پھل پھول اس میں لگے ہو ئے تھے ان کو کا ٹ کرضائع کردے یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے فروخت کرلے اور نا جا ئزدست اندازی سے با غ کو ویران کردے تو بتا وکہ ما لک جب آوے گا تو اس سے کیسا سلوک کریگا؟
انسا ن کی پیدائش کا مقصد
خدا نے تو اسے بھیجا تھا کہ عبا دت کرے اور حق اللہ اور حق العبا د کو بجا لا وے مگر یہ آتے ہی بیویوں میں مشغول ،بچوں میں محواور ا پنے لذائذ کا بندہ بن گیا اور اس اصل مقصد کو بالکل بھول ہی گیا بتا و اس کا خدا کے سا منے کیا جواب ہو گا ؟ دنیا کے یہ سا ما ن اور یہ بیوی بچے اور کھا نے پہنے تو اللہ تعا لیٰ نے صرف بطور بھاڑہ کے بنائے تھے جس طرح ایک یکہ با ن چند کو س تک ٹٹو سے کا م لیکر سمجھتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے اسے کچھ نہا ری اور پا نی وغیرہ دیتا ہے اور کچھ ما لش کرتا ہے تا اس کی تھکا ن کا کچھ علاج ہو جاوے اور آگے چلنے کے قابل ہو اور درما ندہ ہو کر کہیں آدھ میںہی نہ رہ جا ئے اس سہارے کے لیے اسے نہاری دیتا ہے سویہ دنیوی آرام اور عیش اور بیوی بچے اور کھا نے کی خوراکیں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھاڑے مقرر کئے ہیں تاکہ وہ تھک کراور درماندہ ہوکر بھوک سے پیاس سے مر نہ جاوے اور اس کے قویٰ تحلیل ہو نے کی تلافی ما فات ہو تی جاوے ۔پس یہ چیزیں اس حدتک جا ئزہیں کہ انسا ن