آجا وے گا۔ وہ لڑکے بیچارے خالی ہا تھ رہ جاویں گے تواللہ تعا لیٰ نے دونبیوں ۱؎ کواس خدمت کے واسطے مقر رفر ما یا وہ گئے اوردیوار کو دوست کردیا کہ جب و ہ بڑے ہو ں تو پھر کسی طرح ان کے ہا تھ وہ خزانہ آجا وے ۔پس اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہی فر مایا کہ وکان ابو ھما صالحا (الکھف:۸۳) یعنی ان لڑکوں کا با پ نیک مرد تھا ۔جسکے واسطے ہم نے ان کے خزانہ کی حفا ظت کی ۔اللہ تعا لیٰ کے ایسا فر ما نے سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ لڑکے کچھ اچھے نہ تھے اور نہ اچھے ہو نے والے تھے ۔ورنہ یہ فر ما تا کہ یہ اچھے لڑکے ہیں صالح ہیں اور صالح ہو نے والے ہیں ۔نہیں بلکہ انکے با پ کا ہی حوالہ دیا کہ ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ایساکیا گیا ہے ۔دیکھویہی تو شفاعت ہے۔ حقیقی متقی بنو وہ لوگ جو بڑے بڑے ادعا کرتے ہیں کہ ہم یوں نیکی کرتے ہیں اور متقی ہیں مگر انکے یہ دعوے قرآن شریف کے مطابق نہیں ہو تے اور نہ اس کسوٹی پر صادق ثابت ہو تے ہیں کیونکہ وہ فرما تا ہے وھویتولی الصالحین (الا عراف :۱۹۷) اولیا ء ہ لا المتقون (الانفال :۳۵) تو اس وقت افسوس سے ہمیں ان لوگوں کی ہی حالت پر رحم آتا ہے کہ و اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں اصل سبب اس کا یہ ہے کہ ان کا صدق وفااور اخلاص خدا کے نزدیک اس ردجہ کا نہیں ہو تا۔ بلکہ وہ دوسروں کے شرک سے قابل نفرت ہو گیا ہوتاہے ۔ایما ن کم ہو تا ہے اور لا فیں زیادہ ہو تی ہیں خداتعالیٰ با ربا ر فر ما تا ہے ولن تجد لسنت اللہ تبدیلا (الاحزاب :۶۳) ۱؎ بھلا یہ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہم خدا کو وعدہ خلاف یا جھوٹا کہیں اور اس کی نسبت الزام کا خیال بھی نہ کریں ۔اصل میں ایسے کوگوں کا ایما ن نا کارہ ہو تا ہے جولعنت کے موردہو تے ہیں نہ رحمت کے ۔وہ اصل میں خداتعالیٰ کو دھوکا دینا چا ہتے ہیں ۔ظاہر کچھ ہو تا ہے اور با طن کچھ ۔بھلا خلق نے تو دھوکا کھا بھی لیا مگر وہ جس کی نظراندرون دراندرون پہنچتی ہے وہ کسی کے دھوکا میں آسکتاہے۔ انبیا ء کے نقش قدم پر چلو انسا ن کو چا ہئیے کہ ساری کمندوں کو جلا دے اور صرف محبت الہیٰ ہی کی کمندکو باقی رہنے دے ۔خدا نے بہت سے نمونے پیش کئے ہیں آدم وابراہیم وموسیٰ اور حضرت محمد مصطفی علیمالصلٰوۃالسلام تک کل انبیا ء اسی نمونہ کی خاطر ہی تو اس نے بھیجے ہیں تا لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں ۔جس طرح وہ خدا تک پہنچے اسی طرح اور