من حیث لایحتسب (الطلاق :۳،۴) یعنی جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے ۔اس کوخدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہو تاکہ کہا ں سے اور کیونکہ آتا ہے ۔خدا تعا لیٰ اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور بڑا رحیم وکریم ہے ۔جو خدا تعا لیٰ کا بنتا ہے و ہ اسے ہر ذلت سے نجا ت دیتا ۔اور خود اس کا حافظ ونا صر بن جا تا ہے ۔مگر وہ جو ایک طرف دعویٰ اتقاکرتے ہیں اور دوسری طرف شاکی ہو تے ہیں کہ ہمیں وہ برکا ت نہیںملے ان دونومیں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹا ؟ خدا تعا لیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے اِن اللہ لایخلف المیعاد (العمران :۱۰) خدا تعا لیٰ اپنے وعدوں کے خلا ف نہیں کرتا ۔ہم اس مد عی کو جھوٹا کہیں گے ۔اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا ان کی اصلاح اس حدتک نہیں ہوتی کہ خداتعا لیٰ کی نظر میں قابل وقعت ہو یا وہ خدا کے متقی نہیں ہو تے لوگوں کے متقی اور ریا کار انسا ن ہوتے ہیں سوان پر بجا ئے رحمت اور بر کت کے لعنت کی ما ر ہو تی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں ۔خدا تعا لیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا ۔وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے ۔ متقین کیلئے رزق رزق بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں یہ بھی تو ایک رزق ہے کہ بعض لوگ صبح سے شا م تک ٹوکری ڈھوتے ہیں اور برے حا ل سے شام کو دوتین آنے ان کے ہا تھ میں آتے ہیںیہ بھی تو رزق ہے مگر لعنتی رزق ہے ۱؎ رزق من حیث لا یحتسب ۔ حضر ت داودزبور میںَ فر ماتے ہیں کہ میںَ بچہ تھا جوان ہوا ۔جوانی سے اب بڑھا پا آیا مگر میں َ نے کبھی کسی متقی اور خدا ترس کو بھیک ما نگتے نہ دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو دربد ردھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا یہ با لکل سچ اور راست ہے کہ خدا تعا لیٰ اپنے بندوں کوضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسر ے کے آگے ہا تھ پسا رنے سے محفوظ رکھتا بھلا اتنے جو انبیا ء ہوئے ہیں اولیاء گذرے ہیں کیا کو ئی کہہ سکتا ہے کہ وہ بھیک ما نگا کرتے تھے ؟ ان کی اولا د پر یہ مصیبت پڑی ہو کہ وہ دربدرخا ک بسر ٹکڑے کے واسطے پھرتے ہوں ؟ ہر گزنہیں میرا تو اعتقا د ہے۔ کہ آدمی با خدا اور سچا متقی ہو تو اس کی سات پشت تک بھی خدا رحمت اور برکت کا ہا تھ رکھتا ۔اور ان کی خود حفا ظت فرما تا ہے ۔ قرآن شریف میں اللہ تعا لیٰ نے ایک ذکر کیا ہے کہ ایک دیواریتیم لڑکوں کی تھی ۔وہ گرنے والی تھی اس کے نیچے خزانہ تھا ۔لڑکے ابھی نا با لغ تھے ۔اس دیوار کے گر نے سے اندیشہ تھا کہ خزانہ ننگا ہوکر لوگوں کے ہاتھ