درخت بولیا ہے اب اس کے پھل کی امید رکھتا ہے یا ایما ن میں َ نے حاصل کر لیا ہے ۔اس کے نتا ئج مترتب ہو نے کا منتظر ہو تا ہے مگر اصل میں وہ خدا کے نزدیک نہ تا ئب اور نہ سچا مومن ۔کچھ بھی نہیں ہو تا کیونکہ جو چیز اللہ تعا لے ٰ کی پسند یدگی اور منظوری کی حد تک نہ پہنچی ہو ئی ہو وہ چیزاس کی نظر میں ردی اور حقیر ہو تی ہے ۔اس کی کو ئی قدر وقمیت خداتعالیٰ کے نزدیک نہیں ہو تی ۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسا ن جب کسی چیز کے خریدنے کا ارادہ کرتا ہے جب تک کو ئی چیز اس کی پسندیدگی میں نہ آوے تب تک اس کی نظر میں ایک ردی محض اور نے قمیت ہو تی ہے ۔تو جب انسان کا یہ حال ہے ۔ تواقدس اور پا ک اور بے لوث ہستی ہے ۔وہ ایسی ردی چیز کو اپنی جناب میں کب منظور کرنے لگا ؟ ؔؔؔؔؔؔ دیکھویہ دن ابتلا ء کے دن ہیں وہا ئیں ہی قحط ہے غر ض اس وقت خدا تعالیٰ کا غضب زمین پر نا زل ہو رہا ہے ۔ایسے وقت میں اپنے آپ کو دھوکا مت دو اور صاف دل سے اپنی کو ئی پناہ بنالو۔ یہ بیعت اور تو بہ اس وقت فائدہ دیتی ہے جب انسا ن صدق دل اور خلاص نیت سے اس پرقائم اور کار بندبھی ہو جا وے ۔خدا تعالیٰ خشک لفاظی سے جو حلق کے نیچے نہیںجا تی ہرگز خوش نہیں ہو تا ۔ایسے بنوکہ تمہارا صدق اور وفا اور سوزوگدازآسما ن پر پہنچ جا وے ۔خداتعالیٰ ایسے شخص کی حفاظت کرتا اور اس کو برکت دیتا ہے ۔ جس کو دیکھتا ہے کہ اس کا سینہ صدق اور محبت سے بھرا ہوا ہے وہ دلوں پر نظر ڈالتا ہے اور جھا نکتا ہے نہ کہ ظاہری قیل وقا ل پر جس کا دل ہر قسم کے گنداور نا پا کی سے معرااور مبراپا تا ہے اس میں آاتر تا ہے اور گھر بنا تا ہے مگر جس دل میں کو ئی کسی قسم کا بھی رخنہ یا نا پا کی ہے اس کو لعنتی بنا تا ہے ۔ دیکھو جس طرح تمہا رے عام جسمانی حوائج کے پورا کرنے کے واسطے ایک منا سب اور کا فی مقدار کی ضرورت ہو تی ہے اسی طرح تمہاری روحانی حائج کا حال ہے ۔کیا تم ایک قطرہ پا نی زبا ن پر رکھ کر پیا س بجھا سکتے ہو ؟ کیا تم ایک ریزہ کھانے کا منہ میں ڈال کر بھوک سے نجا ت حاصل کرسکتے ہو ؟ہر گزنہیں۔پس اسی طرح تمہاری روحانی حالت معمولی سی توبہ یا کبھی کبھی ٹوٹی پھوٹی نما ز یا روزہ سے سنورنہیں سکتی ۔روحانی حالت کے سنوار نے اور اس با غ کے پھل کھا نے کیلئے بھی تم کو چا ہئیے کہ اس با غ کو وقت پر خدا کی جناب میں نمازیں اداکرکے اپنی آنکھوں کاپانی پہنچا و اور اعمال صالحہ کے پا نی نہرسے اس با غ کوسیراب کروتا وہ ہرابھراہواور پھلے پھولے اور اس قابل ہو سکے کہ تم اس سے پھل کھاو ۔ ایما ن اور اعما ل صالحہ یا درکھوایمان بغیر اعما ل صالحہ کے ادگوراایمان ہے ۔کیا وجہ ہے کہ اگر ایما ن کا مل ہو تو اعمال صالحہ سرزدنہ ہوں؟ اپنے ایما ن اور اعتقادکو کا مل کرو ورنہ کسی کا م کا نہ ہو گا ۔کوگ اپنے ایما ن کو پورا ایما ن تو بنا تے نہیں پھر شکا یت کرتے ہیں کہ ہمیں انعامات نہیں ملتے جن کا وعدہ تھا ۔بیشک خداتعا لیٰ نے وعدہ فر ما یا ہوا ہے کہ ومب یتق اللہ یجعل لہ مخرجاویرزقہ