کی خوبیاں اور صداقت بیا ن کی جا وے اور ظاہر کیاجاوے کہکن کن نیک اعما ل کی تعلیم اسلا م نے دی ہے کن کن مہلکا ت سے بچا یا ہے ۔گا وخوری کے مسائل وغیرہ بیان کرنے سے کیا فا ئدہ ؟ جو اسلام کو پسندکر یگا ۔وہ گا وخوری کو بھی پسند کریگا جس با ت کا فساد اس کے نفع سے بڑھکر ہو اس کو بیان کر نے کی ضرورت نہیں ۔ (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۲، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۲۳ ما رچ ۱۹۰۳ئ
ْْْْ ْ دربا رِ شا م
ختم اور فا تحہ خوانی
ایک بزرگ نے عر ض کی کہ حضور میںَ نے اپنی ملا زمت سے پہلے یہ منت ما نی تھی کہ جب میں ملا زم ہو جا ویں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حسا ب سے نکال کر اس کا کھا نا پکواکر حضرت پیران پیرکا ختم دلا وں گا ۔ اس کے متعلق حضو ر کیا فر ما تے ہیں ؟فر ما یا کہ :۔
خیر ات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جا ئز ہے اور جیسے چا ہے انسا ن دے مگر اس فا تحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فا ئدہ ؟ اور یہ کیوں کیا جا تا ہے ؟ میرے خیا ل میں یہ جو ہما رے ملک میں رسم جا ری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھاکرتے ہیں یہ طریق تق شرک ہے ااور اس کا ثبو ت آنحضرت ﷺ کے فعل سے نہیں ۔غرنا ء ومساکین کو بے شک کھا نا کھلاو۔
نصیحت بعد ازبیعت
چند احبا ب نے بیعت کی تھی اس پر ان کو چندکلمات بطورنصیحت فر مائے:۔
پانچوں نما زیں عمدہ طرح سے پڑھا کرو ۔روزہ صدق سے رکھو اور اگر صاحب تو فیق ہو ۔تو زکوۃ ۔حج وغیرہ اعمال میں بھی کمر بستہ رہو۔ اور ہر قسم کے گنا ہ سے اور شرک اور بدعت سے بیزار رہو۔اصل میں گنا ہ کی شنا خت کے اصول صرف دوہی ہیں
اوّل۔ حق اللہ کی بجا آوری میں کمی یا کوتا ہی ۔دوم۔ حق العباد کا خیا ل نہ کر نا ۔
اصلاصول عبادت بھی یہی ہیں کہ ان دونوں کی محا فظت کما حقہ کی جا وے اور گنا ہ بھی انہیں میں کوتا ہی کرنے کا نا م ہے اپنے عہد پر قائم رہواور جوالفا ظ اس وقت تم نے میرے ہا تھ پر بطور اقرار زبا ن سے نکالے ہیں ۔ان پر مرتے دم تک قائم رہو ۔انسا ن بعض اوقات دھوکہ کھا تا ہے وہ جا نتا ہے کہ میں َ نے اپنے لیے توبہ کا