سمجھتے اور اس کی نا فر ما نی سے نہیں رکتے تو پھر اس کا عذاب ایسا ہوتا ہے ۔ ولا یخاف عقبھا (الشمس :۱۶) صرف بیعت کا فی نہیں تم لو گوں نے میرے ہا تھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسہ نہ کرلینا صرف اتنی ہی با ت کا فی نہیں ۔زبا نی اقرارسے کچھ نہیں بنتا ۔ جب عملی طور سے اس اقرار کیتصدیق نہ کرکے دکھلائی جا وے ۔یو ں زبا نی تو بہت سے خوشامد لوگ بھی اقرار کر لیاکرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے ۔خدا تعا لیٰ کی نظر انسا ن کے دل پر پڑتی ہے پس اب سے اقرار سچا کرلواور دل کو اس اقرار میں زبا ن کے ساتھ شریک کرلوکہ جب تک قبر میں جا ویں ہر قسم کے گنا ہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے ۔ غرض اللہ اور حق العبا د میں کو ئی کمی یا سستی نہیں کریں گے ۔اسی طرح سے خدا تعا لیٰ تم کو ہرطرح کے عذابوں سے بچا ویگا اور تمہاری نصرت ہرمیدا ن میں کر یگا ۔ظلم کو ترک کرو ۔خیا نت ۔حق تلفی اپنا شیوہ نہ بنا و اور سب سے بڑا گنا ہ غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچا و ۔ (الحکم جلد نمبر ۱۲ صفحہ ۹۔۱۰مورخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۳؁ئ) ۲۲ مارچ ۱۹۰۳؁ء مجلس قبل ازعشاء اسلا م مذہب کے مقابلے پر گفتگوفر ما تے ہوئے آپ نے فر ما یا کہ :۔ اسلام وہ مذہب ہے جس نے اپنے اقبا ل کے سا تھ تما م مذاہب کو اپنے پیروں میں لے لیا ہوا ہے۔ اسلا م ایسے ملک سے شروع ہواجہاں لوگ درندوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور طرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلا تھے ۔ان کو حیوانیت سے انسا نیت میں اسلامی ہی لا یا ۔ہر طرف اس کی مخا لفت ہو ئی لو گوں نے دشمنی میں کو ئی دقیقہ فر وگذاشت نہ کیا ۔پھر بھی وہ تما م کا م پورے ہو کر رہے جو بنی کریم ﷺ نے فر ما ئے تھے اور کو ئی فردبشر بھی اس کا با ل نہ بگاڑسکا ۔حتیٰ کہ نداآگئی ۔ (الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکمنعمتی ورضیت لکم الا سلا م دنیا (المائدہ: ۴) (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۲، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ؁) ہندووں سے گفتگوکا طریق جیسے کہ بعض لو گو ں کا دستو رہے کہ جب ہندومسلمانوں میں کو ئی گفتگو ہو تو گا وخوری وغیرہ با توں پر بحث ہو ا کرتی ہے اس پر حضرت اقدس نے فر ما یا ۔کہ با ت یہ ہے کہ اصل اشیا ء میں حلت ہے اب دنیا میں کروڑ ہا اشیا ء ہیں کو ئی کچھ کھا تا ہے اور کو ئی کچھ ۔اس لیے ایسی با توں میں پڑنا مناسب نہیں ہو ا کرتا ۔چا ہئیے کہ ایسے مباحثات میں ہمیشہ اسلام