اسی طرح تم بھی حدا کے احکا م کی بجا آوری میں بے چون وچراگردن رکھ دو ۔جب تک کا مل طور سے تم اپنے ارودوں سے خا لی اور نفسانی ہواوہوس سے پا ک نہ ہو جا وگے تب تک تمہارا اسلام اسلام نہیں ہے بہت ہیں کہ ہماری ان با تو ں کو قصہ کہا نی جا نتے ہوں گے اور ٹھٹھے اور ہنسی سے ان کا ذکر کرتے ہوں گے مگر یادرکھوکہ یہ اب آخری دن ہیں ۔ خدا تعا لیٰ فیصلہ کر نا چا ہتا ہے لوگ بے حیا ئی ۔حیلہ با زی اور نفس پر ستی میں حد سے زیا دہ گذرے جا تے ہیں ۔خدا تعا لیٰ کی عظمت وجلا ل اور تو حید کا ان کے دلوںمیں ذرا بھی خیا ل نہیں گویا نا ستک مت ہو گئے ہیں ۔کو ئی کا م بھی ان کا خدا کے لیے نہیں ہے ۔ ایک ما مور کی بعثت پس ایسے وقت میں اس نے اپنے ایک خاص بندہ کو بھیجا ہے تا اس کے ذریعہ سیدنیا میں ہدایت کا نورپھیلا وے اوت گمشدہ ایما ن اور توحید کو ازسر نودنیا میں قائم کرے ۔مگرجب دنیا نے اس کی پروا نہ کی اور الٹا دکھ دیا اور اس کی تکذیب کیلئے کمر بستہ ہو گئے تو خدا تعا لیٰ نے ان کو قہر کی آگ سے ہلا کر نا شروع کیا ۔کئی طرح کے عذابوں سے اس نے دنیا کو جگا یا ہے کہیں قحط ہو ئے اور کہیں زلزلے آئے ۔آ تش فشانیاں ہو ئیں ۔ہراردہزار لوگ تبا ہ ہو ئے ۔انہیں میں سے ایک طا عون بھی ہے ۔یہ دورنہ ہو گی اور نہ جا ویگی جب تک یہ دنیا کو سیدھا نہ کرلے ۔لوگ تسلی پا جا تے ہیں کہ بس اب گئی اب نہیں آویگی مگروہ دھوکا کھا تے ہیں ان نا دانوں کاتو کا م ہی خدا سے جنگ کرنا ہو گیا ہے مگر وہ کہا نتک ؟وہ دنیا کو بتا نا چا ہتا ہے کہ میں ضروموجود ہوں اور ان کی بیبا کیوں اور شرارتوں کو دور کر نا چا ہتا ہوں مگر آہستہ آہستہ ۔اس کے تما م کا م بتدریج ہوا کر تے ہیں ۔جب وہ دیکھتا ہے کہ دنیا طرح طرح کے ظلم اور فسادوں سے بھرگئی اور خدا کا نا م دنیا سے اٹھ گیا ۔اس کی توحید اور اس کی کتا باور اس کے رسول کی ہتک کی گئی تو وہ ایسے وقت میں اپنے خا ص رحم سے اپنی رحمت کا درواز کھولتا ہے اور اپنی خلقت کو ایک ایسے شخص کے سپردر کرتا ہے جو اس کوخدا کے عذابسے بچا نے کے واسطے کو شش کرتا اور ان کا بڑا خیرخواہ ہو تا ہے مگر جب دنیا اسکی پر وا نہیں کرتی اور بجا ئے اس کے کہ اس سے محبت کریں اس کو بتا یا جا تا دکھ دیا جا تا ہے تو خدا تعا لیٰ بھی اپنے غضب سے دنیا میں اپنا عذاب نا زل کرتا ہے جو نا فر مانوں کو آگ کی طرح بھسم کرتا ہے اور خدا تعا لیٰ کی سلطنت کا رعب قائم کرتا اور صادق کی نصر ت اور اس کے ہمراہیوں کو بطورنمونہ اس سے بچاتا ہے ۔ تو بہ کرو پس اب یہ وقت ہے توبہ کرو ۔اگر عذاب آگیا تو پھر تو بہ کا دروازہ بھی بندہو گیا تو بہ میں بہت کچھ ہے ۔دیکھو جب کو ئی با دشا ہ کسی امر کے متعلق سمجھا کہ تم اس سے رک جا و تمہارابھلا ہو گا تو اگر وہ شخص رک جا وے تو بہتر ورنہ پھر اس کا عذاب کیسا سخت ہو تا ہے اسی طرح پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں سے خدا تعا لیٰ لو گو ں کو سمجگو یتا ں دیتا ہے کہ با زآجا و موقر ہے ورنہ پچھتا وگے مگر جب وہ نہیں