کے وقت تک پورے خشوع اور حضورقلب سے ادا کی جا وے اور عاجزی اور فروتنی اور انکساری اور گریہ وزاری سے اللہ تعا لیٰ کے حضور میں اس طرح سے ادا کی جا وے کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہو ۔اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم ازکم یہ توبہ ہو کہ وہی تم کو دیکھ رہا ہے ۔اس طرح کما ل ادب اور محنت اور خوف سے بھری ہو ئی نما ز ادا کرو۔
بے وقت موتوں کا زما نہ
دیکھویہ زما نہ بے وقت موتوں کا زما نہ آگیا ہے۔بھلا پہلے کبھی تم نے اپنے با پ دادا سے بھی سنا ہے کہ اس طرح اچا نک موت کا سلسلہ کبھی جا ری ہوا ۔رات کو اچھا بھلا کا م کا ج کرتا اور چلتا پھر تا آدمی سوتا ہے اور صبح کو ایسی نیندمیں سویا ہواہوتا ہے کہ جس سے جا گنا ہی نہیں ۔اب جس گھر میں یہ موت آئی گھر کا گھر اور گاوں کے گاوں اس نے خالی کر دئیے ابھی انجام کی خبر نہیں ۔کیا کیا دن آنے ہیں ۔ایک نا دان اپنی نا دانی کی وجہ سے جب طاعون چنددن کے لیے رک جاتی ہے اور خدا تعا لیٰ کسی مصلحت سے اسے بند کر تا ہے وہ کہتا ہے بس اب گئی اب نہیں آئے گی ۔اومیاں !ایسا ہمیشہ ہی ہوا کرتا ہے کہ بیما ریا ں آتی ہیں چا ردن رہ کر چلی جو تی ہیں مگر خدا کی با ریک تد ابیر سے وہ نا واقف ہیں ۔وہ نہیں جا نتے کہ وہ مہلت دیتا ہے کہ بھلا ابھی ان میں کچھ صلا حیت اوت تقویٰ اور خوف بھی پیدا ہواہے یانہیں۔
اس طاعون کا پچھلاتجربہ بتا تا ہے کہ ایک ایک دورہ سترسترسال کا ہواکرتا ہے اس سے تو جنگل کے جا نوروں نے بھی پنا ہ مانگی ہے جب انسا نوں کو ختم کر چکی ہے تو جنگل کے حیوانوں اور درندوں کو بھی ختم کردیتی ہے ایسے وقتوں میں خدا تعا لیٰ بچا لیتا ہے ان لو گوں کو جو ان مصائب اور عذابوں کے نا زل ہو نے سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح کرتے اور دوسروں سے عبر ت پکڑتے ہیں ۔خدا تعا لیٰ ان کی حفا ظت خود کرتا ہے ۔عذابوں اور شدائدکے وقتوں میں جو آرام اور عیش کے وقت میں اس سے ڈرتے اور پنا ہ ما نگتے ہیں مگر جب عذاب کسی پر نا زل ہو جا وے تب تو بہ بھی قبول نہیں ہو تی ۔
اپنے آپکو درست کرلو
پس اب موقع ہے کہ تم خدا تعا لیٰ کے سامنے اپنے آپ کودرست کرلو اور اس کے فرائض کی بجاآوری میںکمی نہ کرو ۔خلق اللہ سے کبھی بھی خیابت ۔ظلم ۔بدخلقی ۔تر شروئی ایذائوہی سے پیش نہ آو ۔کسی کی حق تلفی نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کے بدلے بھی خدا تعا لیٰ مواخذہ کریگا ۔جس طرح خدا تعا لیٰ کے احکا م کی نا فرما نی ۔ اس کی عظمت ۔تو حید اور جلال کے خلاف کرنے اور اس سے شرک کر نا گنا ہ ہیں اسی طرھ اس کی خلق سے ظلم کرنا ۔ ان کی حق تلفیاں نہ کرو ۔زبا ن یا ہاتھ سے دکھ یا کسی قسم کی گا لی گلوچ دینا بھی گنا ہ ہیں پس تم دونوطرح کے گنا ہوں سے پا ک بنو اور نیکی کو بدی سے خلط نہ کرو۔
تمہارا دین اسلام ہے
تمہارا دین اسلام ہے َ اسلام کے معنے ہیں خدا کے آگے گردن رکھ دینا ۔جس طرح ایک بکراذبح کر نے کی خاطر منہ کے بل لٹا یا جا تا ہے ۔