تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پر ہیز کرے ۔منہ میں اس سے بدبوآتی ہے اور یہ من منحوس صورت ہے کہ انسا ن دھواں اندر دا خل کرے اور پھر با ہر نکالے اگر آنحضر ت ﷺ کے وقت یہ ہو تا تو آپ اجا زت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جاوے ۔ا یک لغواور بیودہ حرکت ہے ہا ں مسکرات میں اسے شامل نہیں کرسکتے ۔اگر علا ج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے ورنہ یو نہی ما ل کو بیجا صرف کر نا ہے عمدہ تندرست وہ آدمی ہے جو کسی شئے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا ہے ۔انگریز بھی چا ہتے ہیں کہ اسے دور کر دیں ۔ (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۲، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ؁) دربا ر شام نومبایعین کو نصیحت چند نوواردشخصوں نے بیعت کی ۔بعد از بیعت فر ما یا :۔ دیکھو بیعت تو تمہا ری ہو چکی تمہیں چا ہئیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو خدا کا قہر سخت ہو تا ہے اگر چہ دنیا کا عذاب بھی سخت اور نا قابل برداشت ہو تا ہے مگر تا ہم جس طرح ہو تا ہے ۔اچھے برے دن گذرجا تے ہیں مگر آخرت کا عذاب تو نا پیدا کنا رہے اس لیے منا سب ہے کہ اس کے واسطے کا فی سا ما ن کیا جا وے ۔ ہمیں ہنا پڑتا ہے کہ جو شخص آتا ہے اور بیعت کرتاہے ہم پر فر ض ہو تا ہے کہ اسے کرنے اور نہ کرنے کے کا موں سے آگا ہ کریں ۔جیسا بے خبر آیا تھا ویسا ہی بے خبر واپس نہ جا وے۔ ایسا ہو نے سے معصیت کا خوف ہے کہ اسے کیوں نہ بتا یا گیا ؟ سوتم سوچ لو کہ مقدم امر دین ہی کا ہے دنیا کے دن تو کسی نہ کسی طرح گذرہی جا تے ہیں ۔ شب تنورگذشت وشب سمورگذشت غربا ئاور مسا کین بھی جن کو کھا نے کو ایک وقت ملتا ہے اور دوسر ے وقت نہیں ملتا اور آرام کے مکا ن بھی نہیں ہو تے ان کی بھی گذرہی جا تی ہے اور امر اء اور پلا وزردے کھا نے والے اور عمدہ مکا نو ں اور بلا خانوں میں رہنے والے ان کی بھی اپنے دن پورے کرہی رہے ہیں کسی کا دکھ دردسے اور کسی کا عیش میںگذر ہ ہو تا ہے مگر عاقبت کا دکھ جھیلنا بہت مشکل ہے اور وہ عذاب اور اس کے دکھ درد نا قابل بر داشت ہوں گے لٰہذادانا وہی ہے کہ جو اس ہمیشہ رہنے والے جہان کی فکر میں لگ جا وے ۔ حقیقتِ نماز سوتم نمازوں کو سنوارواور خدا تعا لیٰ کے احکام کو اس ک فرمودہ کے بموجب کرو ۔اس کی نواہء سے بچے رہو اس کے ذکر اور یا د میں لگے رہو دعا کا سلسلہ ہروقت جا ری رکگواپنی نما ز میں جہاں جہاں رکوع وسجود میں دعا کا موقعہ ہے دعا کرو اور غفلت کی نما ز کو تر ک کردو رسمی نما ز کچھ ثمرات مترتب نہیں لا تی اور نہ وہ قبولیت کے لا ئق ہے ۔نما ز وہی ہے کہ کھڑے ہو نے سے سلام پھیرنے