ابہتا ل پہنچ جا تے ہیں ۔ تو پھر خدا توبہ کرتاہے یعنی اس کی طرف رجو ع کرتاہے اور کہتا ہے اعمل ما شیت انی غفر ت لک ۔اس کے یہ معنے ہو تے ہیں کہ اب اس کی فطرت ایسی بدل دی گئی ہے کہ گناہ ہو سکے گاجیسے کسی بدکا رکا آلہ تنا سل کا ٹ دیا جاوے تو پھر وہ کیا بد کا ری کرسکے گا یا آنکھیں نکال دی جا ئیں تو وہ کیا بدنظری کرے گا ۔اسی طرح خدا سرشت بدل دیتا ہے اور با لکل پا کیزہ فطرت بنا دیتا ہے بدرمیں جب صحابہ اکرؓم نے جا ن لٹائی تو ان کی اس ہمت اور اخلاص کو دیکھ کر خدا نے ان کو بخش دیا ۔ان کے دلوں کو صاف کردیا کہ پھر گنا ہ ہو ہی نہ سکے ۔یہ بھی ایک درجہ ہے جب فطرت بدل جا تی ہے تو وہ خدا کی رضا کے خلا ف کچھ کر ہی نہیں سکتا انسا ن سے گنا ہ نہ ہو ں اور وہ روتوبہ نہ کرے تو خدا ان کاکوہلا ک کرکے ایک ایسی قوم پیدا کرے جو گنا ہ کرے اور پھر خدا ان کو بخشے اگر یہ نہ ہو تو پھر خدا کی صفت غفوریت کیسے کا م کرے گی
گنا ہ توبہ کیسا تھ ملکر تر یا ق بنتا ہے
گناہ ایک مہلک زہر مثل الفا ردسڑکیناوغیرہ کے ہیں مگر توبہ کے ساتھ مل کر یہ تریاق کا حکم رکھتے ہیں انسا ن کے اندر رعونت پیدا ہو جاتی ہے پھر گنا ہ سے کسر نفس پیدا ہو جا تی ہے جیسے زہر کو زہر ما رتی ہے ایسا ہی رعونت وغیرہ کی زہر کو گنا ہ ما رتا ہے ۔حضرت آدم کے ساتھ جو ذلت آئی اس کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ اس کے انر تکبر پیدا ہو تا ہے کہ میںَ وہ ہو ں جیسے خدا نے اپنے ہاتھ سے بنا یا اور ملا ئکہ نے سجدہکیا مگر اس خطا سے وہ شرمسا رہو ئے اور اس تکبر کی نوبت ہی نہ آئی ۔پھر اس شرمساری سے سارے گنا ہ معاف ہوئے اسی طرح بعض سادات آج کل فخر کرتے ہیں مگر نسبی دعویٰ کیا شیَ ہے ؟اس سے رعونت پیدا ہوتی ہے ۔ہر ایک تکبر زہر قاتل ہو تا ہے اسے کسی نہ کسی طرح ما رنا چا ہئیے ۔
آدم کی جنت
سوال ہو اکہ آدم کی جنت کہا ں تھی فر ما یا :۔
ہما را مذہب یہی ہے کہ زمین میں ہی تھی فر ما تا ہے
منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم
آدم کی بودوبا ش آسما ن پر یہ با ت بالکل غلط ہے ۔
شجر ممنوعہ
شجرکی نسبت سوال ہواکہ وہ کو نسا درخت تھا جسکی ممانعت کی گیء تھی ۔فر ما یا کہ :۔
مفسر وں نے کئی با تیں لکھی ہیں مگر معلوم ہو تا ہے کہ انگورہو گا ۔شراب اس سے پیدا ہو تی ہے اور شراب کی نسبت لکھا ہے رجس من عمل الشیطان ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت کا انگورایسا ہی ہوکہ بغیر سڑانے گلا نے کے اس کے تا زہ میں نشہ ہو تا ہے جیسے تاڑی کہ ذراسی دیر کے بعد اس میں نشہ پیدا ہو جا تا ہے ۔
تمباکو
تمبا کو کی نسبت فر ما یا کہ :۔
یہ شراب کی طرح تو نہیں ہے کہ اس سے انسا ن کو فسق وفجور کی طرف رغیب ہو گا مگرتاہم