گو یا جھو ٹا اقرار کر تا ہے ۔ ۱؎ اور یہ میرا ہا تھ نہیں خدا کا ہا تھ ہے جس پر وہ ایسا جھوٹ بولتا ہے اور پھر خدا کے ہا تھ پر جھوٹ بول کر کہا ں جا وے گا ؟
کبر مقتا عند اللہ ان تقولواما لا تفعلون ۔(الصف :۴)
مقت خدا کے غضب کو کہتے ہیں یعنی بڑا غضب ان پر ہو تا ہے جو اقرار کر تے ہیں اور پھر کر تے نہیں ایسے آدمی پر خدا تعا لیٰ کا غضب نا زل ہو تا ہے اس لیے دعائیں کر تے رہو ۔کو ئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا جب تک خدا نہ رکھے ۔
(الحکم جلد نمبر ۱۱ صفحہ ۷۔۸ مورخہ ۲۴ ؍مارچ ۱۹۰۳ئ)
۲۱مارچ ۱۹۰۳ء
بوقت سیرَ
کسی خاص شخص کی ہدایت کیلئے دعا
کسی خاص شخص کی ہدایت پر زوردینے کے با رے میں فر مایا کہ :۔
ایک فردواحد پر ہدایت کے لیے زور دینا ٹھیک نہیں ہو تا اور نہ اس طرح کبھی انبیاء کو کا میا بی ہو ئی ہے ۔عام دعا چا ہئیے پھر جو لا ئق ہو تا ہے وہ اس سے خودابخود متا ثر ہو تا ہے ۔
حقیقت توبہ
توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ گنا ہ سے کلی طور پر بیزارہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور سچے طور سے یہ عہد ہو کہ موت تک پھر گنا ہ نہ کروں گا ۔ایسی توبہ پر خدا کا وعدہ ہے کہ میں بخش دوں گا ۔اگر چہ یہ توبہ دوسرے دن ہی ٹوٹ جا وے مگر با ت یہ ہے کہ کرنے والے کا اس وقت عزم مصمم ہو اور اس کے دل میں ٹوٹی نہ ہو ۔
ایک توبہ انسا ن کی طرف سے ہو تی ہے اور ایک توبہ خدا کی طرف سے ۔خدا کیتوبہ کے معنے رجوع کے ہیں کیو نکہ اسکا نا م تواب ہے ۔انسا ن توبہ کر تا ہے تو گنا ہ سے نیکی کی طرف آتا ہے اور جب خدا توبہ کرتا ہے تووہ رحمت سے اسکی طرف آتا ہے اور اس انسا ن کو لغزش سے سنبھال لیتا ہے جب اس قسم کی خفا کی توبہ ہو تو پھر لغزش نہی ہو تی ۔حدیث میں ہے کہ انسا ن توبہ کرتا ہے پھر اس سے ٹوٹ جاتی ہے اور قضا ئوقدرغا لب آتی ہے پھر وہ روتاہے گڑاتا ہے پھر توبہ کرتا ہے مگر پھر ٹوٹ جوتی ہے اور وہ با ر با ر تضرع کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے پھر آخر کا ر جب انہتا ء تک اس کی تضرع اور