جب تک خود خدا تعا لیٰ کی رحمت کے مقام پر کھڑا ہو تو دعا بھی اس کو فائدہ پہنچا تی ہے۔نر ااسبا ب پر بھروسہ نہ کرلوکہ بیعت کر لی ہے اللہ تعا لیٰ لفظی بیعتوں کر پسند نہیں کر تا ۔بلکہ وہ چا ہتا ہے کہ جیسے بیعت کے وقت توبہ کر تے ہو اس توبہ پر قائم رہو اور ہر روز نئی روجہ پیدا کرو جو اس کے استحکام کاموجب ہو۔ اللہ تعالیٰ پناہ ڈھونڈھنے والوں کوپناہ دیتا ہے جو لوگ خدا کی طرف آتے ہیں وہ ان کو ضائع نہیں کرتا۔ اس بات کو خوب سمجھ لو کہ نب پورا خوف دامنگیر ہو اور جان کندن کی سی حالت ہوگئی ۔اس وقت توبہ ، توبہ نہیں ۔جب بلا نازل ہوگئی پھر اس کا رد کرنا اللہ تعالٰ کے ہی ہاتھ میں ہے ۔تم بلا کے نزول سے پہلے فکرِ کرو ۔جو بلا کے نزول سے پہلے ڈرتا ہے عاقبت بین اورباریک بین ہوتا ہے اور بلا کے آجانے کے وقت تو کافر بھی ڈرتے ہیں ۔میں نے سُنا ہے بعض گائوں میں جہاں طاعون کی شدت ہوئی ہندوئوں نے مسلمانوں کو بلا کر اپنے گروں میں اذانیں دلوائی ہیں وہی اذان جس پہلے اُن کو پرہیز تھا ۔ ۲؎ جومومن غرض کے لیے خدا سے نہیں ڈرتا خدا اس سے خوف کو دور دیتا ہے مگر جس کے دروازے پربلا نازل ہو جائوے تو وہ خواہ نخواہاس سے ڈریگا۔بہت دُعائیں کرتے رہو تاکہ ان بلائوں سے نضات ہو اور خاتمہ بالخیر ہو ۔عملی نمونہ کے سوا بیہودہ قیل قال فائدہ نہیں دیتی اور جیسے ضروری ہے کہ ڈر کے سامانوں سے پہلے ڈرنا چاہیے ۔یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کے ڈر کے سامان قریب ہوتو ڈر جائو اور جب وہ دور چلے جائویں تو بیباک ہو جائو بلکہ تمہاری زندگی ہر حالت میں ا للہ تعالیٰ کے خوف سے بھری ہوئی ہو خواہ مصیبت کے سامان ہو نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ مقتدرہے ۳ ؎ وہ جب چا ہتا ہے مصیبت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور جب چا ہتا ہے کشا ئش کرتا ہے جو بھی اس پر بھروسہ کرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے ۔ڈرنے والا اور نہ ڈرنے والا کبھی برا برا نہیں ہوسکتے ۔اللہ تعالیٰ ان دونوں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے ۔ پس ہما ری جما عت کو چا ہئیے کہ وہ سچی توبہ کریں اور گنا ہ سے بچیں ۔جو بیعت کرکے پھر گناہ سے نہیں بچتا