کہ دو سنڈھوں کے سر جسم سے الگ کٹے ہوئے ہاتھوں میں ہیں ۔ایک ایک ہاتھ میں اور دوسرا دوسرے ہاتھ میں ۔
اسلام کی حالت کا علاج دُعا ہیَ
جس حا لت میں اب اسلام ہے اس کا علاج اب سوائے دعا کے اور کیا ہو سکتا ہے ۔لو گ جہا د جہاد کہتے ہیں مگر اس وقت تو جہاد حرام ہے اس لیے خدا نے مجھے دعاوںمیں جو ش دیا ہے ۔جیسے سمندر میں اہل جو ش ہو تا ہے چونکہ توحید کو لیے دعا کا جو ش دل میں ڈالا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ الہیٰ بھی یہی ہے جیسا کہ
ادعونی استجب لکم (المومن :۶۱)
اس کا وعدہ ہے ۔ (البدر جلد۲ نمبر۱۱ صفحہ ۸۱، مو رخہ ۳ ؍اپریل ۱۹۰۳ئ)
۲۰ ؍مارچ ۱۹۰۳ء
بیعت کا مدعا سچیّ تو بہ ہے
بعد نما ز جمعہ چند آدمیوں نے بیعت کی اور بعد بیعت حضرت اقدس نے ان کو خطاب کرکے فر ما یا :۔
اصل مدعابیعت کا یہی ہے کہ توبہ کرو ۔استغفارکرو ۔نما زوں کو دوست کر کے پڑھو۔نا جائز کا موں سے بچو ۔میں جما عت کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں مگر جما عت کو بھی چا ہئیے کہ وہ بھی اپنے آپ کو پا ک کرے ۔
یا درکھو غفلت کا گنا ہ پشیمانی کے گنا ہ سے بڑھ کر ہو تا ہے ۔یہ گناہ زہریلا اور قاتل ہو تا ہے ۔توبہ کر نے والا تو ایسا ہی ہو تا ہے کہ اگر گو یا اس نے گنا ہ کیا ہی نہیں ۔جس کو معلوم ہی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں وہ بہت خطرنا ک حالت میں ہے پس ضرورت ہے کہ غفلت کو چھوڑدواور اپنے گناہوں سے تو بہ کرواور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔جو شخص تو بہ کر کے اپنی حا لت کو دوست کر لیگا وہ دوسروں کے مقابلہ میں بچا یا جا ئے گا ۔پس دعا اسی کوفا ئدہ پہنچا سکتی ہے جو خود بھی اپنی اصلا ح کرتا ہے اور خدا تعا لیٰ کے ساتھ اپنے سچے تعلق کو قائم کرتا ہے ۔پغمیبرکسی کے لیے اگر شفا عت کرے لیکن وہ شخص جس کی شفا عت کی گئی ہے اپنی اصلا ح نہ کرے اور غفلت کی زندگی سے نہ نکلے تو وہ شفا عت اس کو فا ئدہ نہیں پہنچا سکتی ۔۱ ؎